انقرہ (نیوز ڈیسک) ترکیہ کے بحیرہ اسود کے ساحل پر بہہ کر آنے والی امریکی ساختہ بغیر پائلٹ جنگی کشتی (AEGIR-W) کو ترک فوج نے کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کشتی بارودی مواد سے بھری ہوئی اور فعال حالت میں تھی، جس کے باعث فوری کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ جدید خودکار کشتی جمعہ کے روز ترکیہ کے صوبہ اردو کے علاقے اُنیے (Unye) کے یوجلر محلے کے ساحل پر دیکھی گئی، جس پر مقامی شہریوں نے فوراً سیکیورٹی اداروں کو اطلاع دی۔ واقعے کے بعد جینڈرمیری اور دیگر فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
بارودی مواد کی موجودگی کی تصدیق
ترک بحریہ کے ماہرین اور استنبول کے خصوصی S.A.S کمانڈ یونٹ نے کشتی کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ اس میں خطرناک اسلحہ اور بارودی مواد موجود ہے اور یہ مکمل طور پر آپریشنل تھی۔
محفوظ مقام پر منتقل کرکے تباہی
حکام کے مطابق کشتی کو ساحل سے تقریباً 4 کلومیٹر دور سمندر میں لے جا کر کنٹرولڈ دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اس دوران قریبی آبادی کو حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔
کشتی کی خصوصیات
ذرائع کے مطابق AEGIR-W ایک جدید فوجی بغیر پائلٹ سطحی جہاز ہے، جو امریکی دفاعی کمپنی Sierra Nevada Corporation تیار کرتی ہے۔ اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:
لمبائی تقریباً 10 میٹر
900 کلومیٹر تک رینج
25 ناٹس سے زائد رفتار
300 کلوگرام تک اسلحہ لے جانے کی صلاحیت
مکمل خودکار یا ریموٹ کنٹرول آپریشن
تحقیقات جاری
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کشتی ترکیہ کے ساحل تک کیسے پہنچی۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسے یوکرین جنگ سے متعلق تجربات میں استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ترک حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔















