اہم خبریں

آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس، انتخابی امور پر اہم مشاورت

اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سردار محمد ظفر خان، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان،کمشنر میرپور راجہ طاہر ممتاز ،کمشنر پونچھ سردار وحید خان اور ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں انتخابی امور سے متعلق انتظامات، انتخابی فہرستوں میں پائی جانے والی غلطیوں کی درستگی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنرز کی کمیٹی کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر باغ نے چیف الیکشن کمشنر کو بریفنگ دی ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ انتخابی فہرستوں میں درستگی کا 90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے انشاءاللہ جلد باقی 10 فیصد کام بھی مکمل کر لیا جائے گا ۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ منصفانہ ،غیر جانبدارانہ اور ،شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلیے شفاف انتخابی فہرستوں کا بننا ضروری ہوتا ہے اور الحمد للہ ہم نے یہ بڑی حد تک مکمل کر لیا ہے جس پر انتظامیہ کو مبارکباد اور شاباش دیتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ میرا ایمان اور تجرب یہ ہے کہ جب کوئی مشکل آتی ہے تو اللہ پاک اسے دور کرنے کے اسباب بھی پیدا فرما دیتا ہے ۔سینیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے ہمیں کہا کہ آپ جو کہیں گے ہم ویسا ہی کریں گے ،مستقبل میں خرابیوں کو روکنے کیلیے ایک رپورٹ ضرور آنی چاہیے ۔اس سے ذمہ دار کا تعین ہو جاتا ہے انسان کے ہاتھ میں سب کچھ نہیں ہوتا ۔میرے اپنے نکتہ نگاہ سے انتخابی فہرستوں کا کام پورے سال کا کام ہے جو ہر سال ہونا چاہیے ۔

آئندہ انشاءاللہ ایس ایم بی آر کے تعاون سے اسے یقینی بنایا جائے گا ۔2016 میں بھی شفاف فہرستوں کی تیاری میں انتظامیہ نے بڑی عرق ریزی کی تھی ،آئندہ ایک دو دن میں اسے فائنل کریں لوگوں کی چیخ وپکار بھی ٹھیک تھی مگر جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ ٹھیک نہیں تھا ۔

میرے علم میں آیا ہے لوگوں نے اپنی لیبز بنا رکھی ہے وہاں شناختی کارڈ بنا کر انتظامیہ پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اسے درج کیا جائے۔میرا اپنا خیال ہے کہ جو ووٹ نیا ہے اسے شامل کر لیں کسی نئے بکھیرے میں نہ پڑیں کمیٹی کو اختیار ہے کہ وہ حالات کے مطابق فیصلہ کر لیں ۔ہم مئی کے وسط میں الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیں گے۔

ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے کہا کہ انتظامیہ کا شکریہ کہ اس نے انتخابی عمل میں معاونت فراہم کی ۔ہم نے ایک اجلاس ویڈیو لنک پر کیا جس سے بات واضح نہیں ہو سکی ۔

انہوں نے سینیر ممبر بورڈ آف ریونیو کا شکریہ ادا کیا ،انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں پر پورے آزادکشمیر میں ایک چیخ و پکار شروع ہو گئی اللہ کے فضل سے ڈپٹی کمشنر باغ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس نے اچھا کام کیا ،اب مرض پکڑ لیا گیا ہے امید ہے کہ آفیسران نے مشاورت سے جس حکمت عملی سے کام کیا آج اسکی رپورٹ بھی مل گئی ہے آپ کو ضلعی انتظامیہ کے اور بھی کام ہوتے ہیں آپ کے تعاون کے بغیر الیکشن کمیشن آگے نہیں بڑھ سکتا آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا ۔

انتخابی فہرستوں میں جو خرابیاں تھیں 90 فیصد دور ہو چکی ہیں جو دس فیصد رہ گئی ہیں وہ بھی جلد دور ہو جائیں گی ۔لوگوں تک یہ فہرستیں پہنچنے سے پہلے ہم اس پر اطمینان کر لیں گے۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سردار محمد ظفر خان نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ہم پر اعتماد کا اظہار ہمارے لئے باعث عزت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ ایشو ایک اہم ایشو ہے اسکو حل بھی ہم نے ہی کرنا ہے ڈپٹی کمشنر باغ نے مفصل رپورٹ تیار کی امید ہے کہ آئندہ یہ غلطیاں مستقبل میں نہیں ہونگی ۔

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی انتظامیہ اور نادرا کے ساتھ کوآرڈینیشن کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں امن اس ریاست کی بڑی کامیابی ہے انتظامیہ اس سلسلے میں مبارکباد کی مستحق ہے۔کمشنر پونچھ سردار وحید خان نے کہا کہ فہرستوں میں سے اغلاط کی درستگی مشکل مرحلہ تھا ڈی سی باغ سے رابطے میں رہا الحمد للہ ہمارے پاس ایسے آفیسرز موجود ہیں جو اسوقت یہ کام کر سکتے ہیں اول مسئلہ الیکشن کمیشن کو صرف پانچ چھ ماہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بوجھ بڑھتا ہے ۔اللہ کا شکر ہے ڈی سی ،اے سی اور دیگر سٹاف کام کر رہے ہیں انشاءاللہ آئندہ دو تین دنوں میں یہ کام مکمل ہو جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر باغ نے اجلاس کو بتایا کہ ڈیٹا انٹری میں تفاوت آیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ۔اہم شکایت کئی حلقہ جات میں ووٹروں کی کمی تھے ۔جو مسودے بھیج گئے ان کو تاحال چیک کرنا ضروری تھا اس حوالے سے کئی سیاستدانوں نے بھی الزامات لگائے ،ہم نے 2016 کی فہرستیں بنائیں جسے کسی سیاسی پارٹی نے مسترد نہیں کیا پھر بلدیاتی انتخابات ہوے وہ بھی انہیں فہرستوں پر ہوے ۔

اس بار 2026 کے الیکشن میں ہماری بیس لائن 2022 ہی تھی اس میں فوت شدہ افراد کے ووٹ ختم کرنے اور شادی شدہ خواتین کے ووٹ تبدیل کرنے تھے ۔ڈی آر 2026 ایک اہم نکتہ تھا جب پڑتال ہوئی تو ووٹ کم ہوئے نادرا نے کئی ووٹ نکالے پٹوار ،موضع کی ترتیب کے بغیر ووٹر لسٹ کی تیاری تھوڑا مشکل امر تھا ،29 لاکھ 48 ہزار ووٹر تھے 2022 میں ،تقریبا ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار ووٹ کم ہوے اتنی کمی ممکن نہیں تھی ،ہم نے تین جہتوں پر کام کیا ،بیس لائن 2022 تھی ،ڈی آر لائن تھی ،پھر جنہوں نے آئی ڈی کارڈ دی پلیس کیا وہ درج نہیں ہو سکا ۔اسی لیے ہر ضلع میں کمی آئی ۔

جب بھی پٹواری ڈیٹا بناتا ہے اسے پھر ری چیک کیا جاتا ہے ڈیٹا پروسیسنگ ووٹر لسٹ ایمرج ہوئی ،ڈیٹا انٹری میں کوڈ ہوتا ہے وہ تلاش کرنا ممکن نہیں تھا ۔کئی لاکھ ووٹ موڈیفکیشن میں گیا ، ہم نے نادرا کا دورہ کیا ،دھیرکوٹ سے 9 ہزار فریش انٹری نہیں آئی ،کوٹلی کے منگ چلے گئے نیلم کے پونچھ چلے گئے،فلٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ ہوا ،پھر ہم 2022 کا سییکونس مانگا ،ایپ میں یہ سہولت بھی نہیں تھا کہ جو ووٹ اضافی وقت درج کئے گئے وہ بھی نہیں تھے ،کوٹلی اور پلندری کو نادرا منگوا لیا ،126 پٹواری ہمارے پاس تھے ،سیکونس ابھی تک نہیں ملا ۔

اسوقت ہمارے پونچھ ،پلندری ،باغ ،مظفرآباد رپورٹ مکمل ہو چکی ہے ،میرپور ،بھمبر ،نیلم ،حویلی میں کام تھوڑا رہتا ہے وہ بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔ہم نے متبادل ورکنگ تیار کی ڈی ای او ہائر کئے ہمارا ڈیٹا انٹری کا نظام ڈیٹا سے فہرست کو ٹیلی کرتے ہیں ،جس کا آئی ڈی ایکسپائر ہوا اسکا ووٹ نئے شناختی کارڈ پر درج نہیں ہو سکا ،2 لاکھ 68 ہزار ووٹ نکالنا انکا کام نہیں تھا ۔ابھی ڈیٹا انٹری سے میچ کرتے ہیں ،ہم۔

سسٹم کے اندر کام کو تیز کر رہے ہیں،ابھی تک جو فیلڈ کا کام سو فیصد مکمل ہو جائے گا کراس ڈسٹرکٹ ہو چکی ،ڈیٹا انٹری بھی کر دی ہے ڈی آر سسٹم میں بھی چیکنگ ہو گئی ۔

میری تجویز یہی ہے کہ ہم اپنے ڈرافٹ کی پروف ریڈنگ کر لیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 28 لاکھ 50ہزار ووٹرز تھے جن میں سے ایک لاکھ افراد فوت ہوئے جبکہ پانچ لاکھ نئے درج ہوے کو نئے درج ہوے ان میں سے ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار ڈیٹا میں نہیں آ سکے اور یہی سے پرابلم شروع ہوئی ۔اجلاس کے دوران کمشنرز ،ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے اپنی اپنی تجاویز بھی دیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد عید الاضحیٰ 2026 کیلئے 6 مویشی منڈیاں کھلنے کیلئے تیار

متعلقہ خبریں