لندن(اے بی این نیوز) برطانوی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس خفیہ طور پر ایران کو ڈرونز، ادویات اور خوراک فراہم کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق مغربی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے مارچ کے مہینے سے ایران کو ڈرونز کی فراہمی کا عمل شروع کیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ روس نہ صرف ڈرونز فراہم کر رہا ہے بلکہ سیٹلائٹ امیجنگ اور حساس انٹیلیجنس معلومات بھی ایران کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں، اس تعاون کو خطے میں طاقت کے توازن پر اثرانداز ہونے والی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق تہران نے ماسکو سے جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کی بھی درخواست کی تھی، تاہم کریملن نے ایران کو ایس 400 دفاعی نظام دینے سے انکار کر دیا، اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کریملن نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت معمول کے مطابق جاری ہے۔
ایک سینئر مغربی عہدیدار کے مطابق روس ایران میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے کیلئے بھی کردار ادا کر رہا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی روس پر ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ماسکو مسلسل ان دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے۔
مزید پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ






































































