اسلام آباد(رضوان عباسی)مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے عام انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اور مرکزی عہدیداران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتحال کا واحد حل بروقت، آزادانہ اور شفاف انتخابات ہیں۔
حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی الیکشن مؤخر کرنے کی سیاست اور بیانیہ مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کا شفاف انتخابات کا مطالبہ سامنے آگیا شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی موجودہ مدت 3 اگست کو مکمل ہو رہی ہے اور آئینی تقاضوں کے مطابق اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ساٹھ روز قبل انتخابی شیڈول جاری کرنا ضروری تھا۔ ان کے بقول الیکشن کمیشن نے آئین اور قانون کے مطابق شیڈول جاری کیا ہے، لہٰذا اسے مؤخر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن 1974 کے عبوری آئین کے ساتھ کھڑی ہے اور الیکشن شیڈول میں کسی قسم کی تاخیر کی مخالفت کرتی ہے۔
شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے عوامی عدالت میں جانا چاہیے۔شاہ غلام قادر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو انتخابی شیڈول کے حوالے سے درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن شیڈول سے متعلق کوئی اعتراض تھا تو اسے آئینی اور قانونی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے۔انہوں نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال، اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بازاروں اور دکانوں کو کھلوانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے پاکستان سے آنے والی گاڑیوں سے داخلی راستوں پر مبینہ بھتہ وصولی کی اطلاعات کا بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔شاہ غلام قادر نے کہا کہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے باوجود بھی آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی نہیں کیے گئے تھے، اس لیے موجودہ حالات میں بھی انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہییں۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت سے متعلق ان کے ریمارکس افسوسناک ہیں، انہیں یاسین ملک کی رہائی کے لیے اپنی کوششوں پر توجہ دینی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں شاہ غلام قادر نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے پر مشاورت کی جاتی تو پارٹی اپنی رائے دیتی، تاہم چونکہ نوٹیفکیشن پیپلز پارٹی حکومت نے جاری کیا ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق، سینئر نائب صدر مشتاق منہاس، سیکرٹری اطلاعات مرتضیٰ گیلانی، کرنل (ر) وقار نور، راجہ یاسین خان، نجیب نقی، فاروق طاہر، راجہ ثاقب مجید، چوہدری سعید، چوہدری رخسار، راجہ ریاست، اسامہ زاہد اور دیگر مرکزی رہنما بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر خزانہ نے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا عندیہ دے دیا









































































