وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے کاشتکاروں کی مالی معاونت، زرعی پیداوار میں اضافے اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ مریم نواز کے کسانوں کیلئے اعلانات میں اپنا کسان بینک، زرعی قرضوں میں رعایت، کسان کارڈ کی حد میں اضافہ، گندم کے امدادی نرخ اور زیتون کی کاشت کے لیے خصوصی پیکج شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے صوبے بھر سے تعلق رکھنے والے چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاشتکاروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ پنجاب کی معاشی ترقی میں کسانوں کا اہم کردار ہے۔ ان کے مطابق صوبہ ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے اور کاشتکاروں کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
کسانوں کیلئے 10 اہم اعلانات
1۔ اپنا کسان بینک: پنجاب میں کاشتکاروں کو مالی سہولتوں تک آسان رسائی دینے کے لیے صوبے کا پہلا مخصوص کسان بینک قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
2۔ زرعی قرضوں پر رعایت: اعلان کے مطابق ایک کروڑ روپے تک کے زرعی قرضے صفر مارک اپ پر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ بڑے زرعی منصوبوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک قرض پر 2 فیصد اور 5 کروڑ روپے تک قرض پر 5 فیصد شرحِ سود مقرر کرنے کا بتایا گیا ہے۔
3۔ گندم کا امدادی نرخ: گندم کی خریداری کے لیے 4,500 روپے فی من کے امدادی نرخ پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت خریداری کا باقاعدہ منصوبہ بھی متعارف کرائے گی۔
4۔ کسان کارڈ کی حد میں اضافہ: کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کسان کارڈ کے تحت فی ایکڑ مالی حد 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 33,500 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
5۔ پانی چوری کے خلاف کارروائی: وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں پانی چوری کے خلاف مہم جاری رہے گی تاکہ نہروں کے آخری حصے تک بھی کاشتکاروں کو پانی مل سکے۔
6۔ نہروں اور کھالوں کی بہتری: نہروں کی بھل صفائی اور کھالوں کو پختہ کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔
7۔ زیتون کی کاشت کیلئے خصوصی پیکج: زیتون کی پیداوار بڑھانے کے لیے سبسڈی اور دیگر معاون اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس شعبے میں برآمدات کے امکانات بھی موجود ہیں۔
8۔ جدید زرعی مشینری: گرین ٹریکٹر اسکیم اور ہائی ٹیک میکانائزیشن پروگرام کے ذریعے کاشتکاروں کو مشینری اور جدید زرعی آلات تک رسائی دینے کے منصوبے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
9۔ ایگرو پروسیسنگ پارکس: سرگودھا، بھکر، خانیوال اور اوکاڑہ میں زرعی پراسیسنگ پارکس قائم کرنے کا منصوبہ بتایا گیا ہے، جہاں آم، کینو، مالٹا اور آلو سمیت مختلف فصلوں کی گریڈنگ، پراسیسنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
10۔ سموگ کی روک تھام: وزیراعلیٰ نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ سموگ کم کرنے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز کریں اور ماحول دوست طریقوں کو اپنائیں۔
زرعی شعبے کو جدید بنانے پر زور
مریم نواز شریف کے مطابق کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے قرضوں کی فراہمی میں شفافیت بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ ٹھیکے یا لیز پر زمین کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی کسان کارڈ منصوبے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ کسانوں کی معاونت کے لیے 1,500 ایگریکلچر انٹرن فیلڈ میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ہائی پاور آبپاشی نظام، موبائل مٹی اور پانی کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں اور پوٹھوہار میں 400 منی ڈیمز کے منصوبے کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ فصلوں کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے گی، تاکہ اضافی پیداوار کو پراسیس کرکے برآمد کیا جاسکے اور کسانوں کو بہتر معاوضہ ملے۔
کاشتکاروں نے اقدامات کو سراہا
ملاقات میں شریک کاشتکاروں نے کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اسکیم اور زیتون کی کاشت کے لیے اقدامات کو سراہا۔ وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے بھی زرعی مشینری کی تیاری، ہارویسٹر اسمبلی اور فصلوں کی پراسیسنگ سے متعلق منصوبوں کا ذکر کیا۔