اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک فوری منتقل ہوگا، قیمتیں کم ہونے تک مہنگائی کے طوفان کے آگے غیر مشروط امداد نہیں باندھ سکتے، غیر مشروط امداد دی گئی تو نتیجہ 2022 والا نکلے گا۔
اپنے حلقے مغلپورہ لاہور میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایک ذمہ دار انداز میں جو گنجائش نکال سکیں گے نکالیں گے، مشکل ترین حالات میں اپنی جیب اور حیثیت کو دیکھتے ہوئے ایک عام آدمی کو تحفظ دینے کے لیے جس حد تک جانا پڑے گا جائیں گے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ کل بھی حوثیوں نے ریاض کے پاس تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا، کل ہی یمن میں باب المندق کے اوپر کشتیوں کی گزرگاہ پر کاروائی کی گئی۔
پاکستان سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتا ہے اور ترک بھائیوں کے ساتھ مل کر سعودیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا، یکجہتی کا پیغام لے کر اگلے ہفتے مجھے ریاض جانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔سعودی عرب نے جیسے پاکستان کو تیل کی فراہمی یقینی بنائی اس پر انکا شکریہ ادا کروں گا۔
وفاقی وزیرپیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق سچ کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے،تیل کی قیمتوں کی وجہ سے جو آپکی زندگی میں مشکلات آئیں، ان کا وزیر اعظم کو احساس ہے جو قیمت بین الاقوامی منڈی میں بڑھی اس وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑیں،ایک روپیہ بھی آپ کے اوپر اضافی نہیں ڈالا۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ آنے والی سردیاں ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں، سردیوں میں صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم اور کابینہ کوپلان دے دیا ہے، اگلے 2 دن میں اس حوالہ سے اہم فیصلے ہوں گے۔
سردیوں میں مشکلات اور چیلنجز سے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے، خطے میں ساری گیس کی فراہمی قطر سے ہوتی ہے، قطر سے سپلائی میں دقت ہوئی تو عوام کو بھی مشکل پیش آئے گی۔
70سال سے اوگرا ایل پی جی کی قیمت کا تعین کررہا ہے، سعودیہ میں آرامکو ایل پی جی کانٹریکٹ پرائس مقرر کرتا ہے جسے سی پی کہا جاتا ہے، اس بار آرامکو نے قیمت 640 ڈالر سے بڑھا کر 705 ڈالر فی ٹن کردی ہے، اس وجہ سے اوگرا کو سلنڈر کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
ہمیں ایل پی جی کا وافر انتظام کرنے کے لیے جو اقدام کرنے چاہئیں وہ وزیر اعظم کو بتا دیئے ہیں، کابینہ کو سمری بھیج دی ہے کہ جلد از جلد باہر سے ایل پی جی منگوانے کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔اگرممکنہ اقدامات نہ کیے تو آخری منٹ پر نہ گیس ملے گی نہ کہیں کوئی اسکا جہاز ملے گا، مجھےجادو نہیں آتا، کسی اور کو آتا ہے تو کر لے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور عمران خان میں فرق یہ ہے کہ ایک کام کرتا ہے،وہ صرف باتیں کرتا تھا۔ن لیگ ہمیشہ ملکی مفادات کومقدم سمجھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے ملک اور خطے پر آزمائش کی گھڑی ہے،کے پی میں دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے پوری قوم کی قیادت سے گزارش کرتا ہوں ساری چیزوں کو ترک کر کے ملک کی سرحدوں کا تحفظ کرنے کے لیے اکٹھے ہونا ہو گا۔اپنی عسکری قیادت کے پیچھے لبیک کہنا ہو گا۔
میرے منہ میں خاک، فکر صرف آج اتنی ہے کہ اپنی چھوٹی سیاست کی وجہ سے ملک کا نقصان نہ کر دیں کہ آئندہ نسلوں کے آگے شرمندہ ہونا پڑے۔کے پی کے وزیر اعلیٰ اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کریں،خطے کی جنگ میں جو صورتحال ہے اس میں قوم کو تحفظ دینے کے لئے وزیر اعظم اقدامات کررہے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جو نوجوان سرحدوں پر شہادت نوش کر رہے ہیں انکی قربانیوں کو مد نظر رکھ کر سب چیزیں ترک کریں،وزیر اعظم، فیلڈ مارشل نے یہ تہیہ کیا ہوا ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے جو بھی قدم اٹھانے پڑے وہ اٹھائیں گے۔
مزیدپڑھیں: مرحوم والد کے 2 شناختی کارڈ ہوں تو بچوں کے شناختی کارڈ کیسے بنیں گے؟








































































