اہم خبریں

معروف حریت پسند کشمیری رہنما شبیر شاہ ضمانت پر رہا

بھارت(اے بی این نیوز)بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو کشمیر کے علیل رہنما شبیر احمد شاہ (72) کو ضمانت دے دی۔ شبیر شاہ پر دہشتگردی کی مبینہ فنڈنگ اور غیر ملکی سازشوں سے متعلق مقدمے میں کیس چل رہا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے متعدد رہنماؤں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے کہا: مقدمے میں بے قاعدگیاں
سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ جس میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے دوران بے قاعدگیاں ہوئیں اور شبیر شاہ کی قید طویل ہو گئی ہے۔

شبیر شاہ کے اہل خانہ کے مطابق، وہ جیل میں بیمار تھے۔ ان کی بیٹی سحر شبیر شاہ نے کہا کہ ان کے والد برسوں تک بغیر کسی سزا کے جیل میں رہے۔

شبیر شاہ کو 2017 میں نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (NIA) نے دوبارہ گرفتار کیا تھا، جس پر دہشتگردی کی مبینہ فنڈنگ اور غیر ملکی سرگرمیوں کے الزامات تھے۔

شبیر شاہ کی جماعت ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی پر 2023 میں بھارتی وزارت داخلہ نے پابندی عائد کی تھی۔

شبیر شاہ ماضی میں مرکزی حکومت کے ساتھ خفیہ بات چیت میں شامل اہم علیحدگی پسند رہنماوں میں شمار ہوتے تھے اور انہیں اکثر کشمیر کا نیلسن منڈیلا کہا جاتا رہا ہے۔

کشمیری رہنماؤں اور سیاسی حلقوں کا ردعمل
کشمیر کے معروف عالم دین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ’ہم پر امید ہیں کہ عدالتیں اسی جذبے کے ساتھ جمہوری قید میں موجود تمام سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کو بھی ریلیف دیں گی، تاکہ ان کے خاندان اور کشمیری عوام کو خوشی حاصل ہو۔‘

جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے سربراہ ساجد لون نے کہا کہ یہ ’اچھی خبر‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شبیر شاہ بیمارتھے۔ امید ہے وہ گھر جا کر آرام کریں اور خاندان کے ساتھ وقت گزاریں۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما آغا منتظر نے کہا کہ یہ پیش رفت جمہوری معاشرے میں انصاف اور قانونی طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شبیر شاہ کے خاندان اور حمایتیوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ میں شبیر شاہ کی صحت و طاقت کے لیے دعاگو ہوں۔

مزید پڑھیں۔عیدالفطر سے قبل بارشیں؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

متعلقہ خبریں