نیویارک(اے بی این نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد جمعہ کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
بی بی سی اردو کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں، جن میں میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیاں شامل تھیں، کو ناکام بنایا، اور جب اس کے بحری جہاز خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے راستے نکل رہے تھے تو جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ ایران نے امریکہ پر پہلے حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔
ان جھڑپوں کے بعد عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 102.40 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت 2.1 فیصد بڑھ کر 96.80 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
کشیدگی میں اس اضافے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اپریل کو امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کرنے کی غرض سے غیر معینہ مدت کے لیے توسیع دی تھی۔
مزید پڑھیں: تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں کب ہونگی؟تاریخ سامنے آگئی















