نیو دہلی (اے بی این نیوز)والدین کو نظر انداز کرنے اور پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی شامت آ گئی بڑا فیصلہ کر لیا گیا۔
پہلی بیوی کی زندگی یا اس کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین ہوشیار ہو جائیں کہ ان کا یہ قدم ان ہی کے لیے بڑا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک سے زائد شادیاں روکنے کے لیے حکومتی سطح پر بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے کیا ہے، جس کے تحت پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ جو بھی سرکاری ملازمین اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرے گا۔
کاٹی جانے والی یہ رقم مذکورہ ملازم کی پہلی بیوی کے اکاؤنٹ میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔ تاہم اس کے لیے پہلی بیوی کو حکومت کے پاس درخواست دینا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر طلاق کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت بھی ہو، تب بھی تنخواہ میں کٹوتی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد یہ ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر پہلی بیوی کو مالی مدد فراہم کی جائے۔
ہمنتا بسوا سرما نے والدین کو نظرانداز کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی کا بھی اعلان کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ایرانی ریال کا تازہ ترین ریٹ سامنے آگیا















