لاہور(نیوزڈیسک) چیئرمین چائلڈ رائٹس عائشہ رضا نے اسلام آباد میں سول جج کی اہلیہ کے مبینہ تشدد سے زخمی بچی کے مقدمے میں اقدام قتل کی دفعات کی شمولیت کا مطالبہ کردیا،ہفتہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی معاون خصوصی شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین چائلڈ رائٹس عائشہ رضا نے جنرل اسپتال میں تشدد کی شکار بچی رضوانہ کی عیادت کی،اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی وزیراعظم شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بچی پر تشدد کی ملزم کو ضمانت ملنا غلط ، جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہے،ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 15 سال سے کم عمر کو گھریلو ملازم رکھنا قانون کے خلاف ہے، بچی پر تشدد کی ملزمہ کو ضمانت مل جانا افسوسناک ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ آج ہم بچی کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئے تو کل ہماری دیگربچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے،انہوں نے کہاکہ تشدد کی شکار بچی کی حالت ابھی بہتر نہیں ہوئی۔شیزہ فاطمہ نے کہاکہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں، جنگ لگی ہو تو اس میں بھی خواتین اور بچوں کا خیال کیا جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزمان پر درج ایف آئی آر پر بچی کے اہل خانہ کے تحفظات ہیں،ایف آئی آر میں دفعات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ قانون والدین کو بھی روکتا ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو ملازمت پر نہ رکھوائیں، ملکی معیشت بہتر ہوئے بغیر یہ سلسلہ نہیں رک سکتا،اس موقع پر عائشہ رضا نےکہا کہ ملزمان پر درج ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات شامل ہونی چاہئیں،انہوں نے کہاکہ ملزم جتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو، ہم اسے کیفرکردار تک پہنچاکرہی دم لینگے۔















