اہم خبریں

وزیراعظم کاستارہ امتیاز دینے کا اعلان بہت بڑا اعزاز ہے،نائلہ کیانی

اسلام آباد(نیوزڈیسک) دنیا بھرمیں 8 ہزار میٹر سےبلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ چوٹیوں کو کم ترین عرصے میںسر کرنے والی واحد پاکستانی خاتون کوہ پیماء نائلہ کیانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ستارہ امتیاز دینے کا اعلان بہت بڑا اعزاز ہے، پاکستان میں مشکلات میں گھرے کوہ پیماؤں کو بحفاظت واپس لانے کیلئے ریسکیو ٹیم بنانے اور انہیں تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے، باقی چھ بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا بھی ارادہ ہے،پاکستان میں ٹیلنٹ تو بہت زیادہ ہے تاہم انہیں کسی قسم کی کوئی سپورٹس حکومتی سطح پر میسر نہیں ہے اگر حکومتی سطح پر کو پیماؤں کی سپورٹ کی جائے تو پاکستانی کو پیماء دنیا میں نام پیدا کر سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے قابل فخر کارنامہ سرانجام دینے والے خاتوں کوہ پیماء نائیلہ کیانی نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر نائیلہ کیانی کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کی بدولت کو ہ پیمائی کو نئی پہچان ملی ہے لوگوں کو عام طور پر کو ہ پیمائی کے حوالے سے پوری طرح آگاہی نہیں ہے ،دنیا میں 8 ہزار میٹر سے زیادہ بلند 14 چوٹیاں ہیں جن میں سے پانچ پاکستان،سات نیپال اور دو چائنہ میں واقع ہیں جنہیں سر کرنا بہت اہم کامیابی سمجھا جاتا ہے ، مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ مان میں سےآٹھ چوٹیاں سب سے کم عرصے میں سر کرنے والی پہلی کوہ پیماء ہوں، بطور عورت اپنے آپ کو منوانا بہت مشکل کام ہے تاہم میں نے یہ ثابت کیا ہے کہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ اہم کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں، پاکستان میں ریسکیو کے حوالے سے ٹیم بنانے اور انہیں تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے میرا تعلق راولپنڈی سے ہے جبکہ لوگ مجھے گلگت بلتستان کا سمجھتے ہیں نوجوانوں کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اگر میں پہاڑوں سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود یہ کامیابیاں حاصل کر سکتی ہوں تو دوسرے بھی یہ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں نائلہ کیانی نے مزید کہا کہ انہیں حکومتی سطح پر کوئی بھی مالی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی تا ہم پرائیویٹ طور پر سپورٹ ملی ہے جس کی بدولت وہ یہ اہم کارنامہ سر انجام دینے کے قابل ہوئی ہیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کو ہ پیماؤں کو مشکل حالات میں ریسکیو کرنے کے لیے ریسکیو ٹیم بنانے اور انہیں تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے اس حوالے سے انہیں ہیلی کاپٹر بھی مہیاکیا جائے تاکہ کو پیماؤں کو باحفاظت ریسکیو کیا جا سکے پرائیویٹ سیکٹر کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے سپانسر کیا ہے کو ہ پیمائی آلات بہت مہنگے ہوتے ہیں اور پاکستان میں یہ دستیاب نہیں ہیں، الپائن کلب میں بہت سپورٹ کیا ہے، کوہ پیماؤں کی مالی امداد بہت ضروری ہے، پاکستان میں ٹیلنٹ تو بہت زیادہ ہے تاہم انہیں کسی قسم کی کوئی سپورٹس حکومتی سطح پر میسر نہیں ہے اگر حکومتی سطح پر کو پیماؤں کی سپورٹ کی جائے تو پاکستانی کو پیماء دنیا میں نام پیدا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں