اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز سردار سیلم حیدر خان نے کہا ہے کہ ہماری بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے جس سے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے شکایات کا ازالہ اور انکا اعتماد بحال ہو سکے۔ پاکستانی اپنے ملک میں آئین اور قانون پر چلنا نہیں چاہتے جبکہ بیرون ممالک جا کے یہی پاکستانی آئین اور قانون کے پابند بن جاتے ہیں، پاک ایران گیس پائپ لائن کے علاوہ انرجی بحران کا کوئی حل نہیں ہے، انڈسٹری کو گیس اور بجلی فرام ہی نہیں کریں گے تو ملک میں انڈسٹری کیسے ترقی کرے گی،جو کام ہمیں یا اداروں کو کرنا چاہیے وہ ہم نہیں کر رہے،ہر کوئی کریڈٹ لینے کے چکر میں ہے،کرپشن صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں شوریٰ نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ” پاکستانیوں کی بیرون ممالک منتقلی وجوہات اور اسباب” کے عنوان سے منعقدہ مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سلیم حیدر خان نے مزید کہا کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہمارا حق ہے کہ بہتری کیلئے جدوجہد کریں، قیام پاکستان سے لے کر 1977 تک ہمارا ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ آج ہماری انڈسٹری تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکی ہے ہم تحقیق کی طرف جانا ہی نہیں جاتے اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس کے لیے فنڈ مختص کرنا چاہتے ہیں تو پھر انڈسٹری کیسے ترقی کرے گی،کرپشن کےخاتمے کے لیے سیاستدانوں کو سب سے پہلے خود ٹھیک ہونا پڑے گا،پاک ایران گیس پائپ لائن کے علاوہ انرجی بحران کا کوئی حل نہیں ہے، پی آئی ڈی ای کے وائس چانسلر ڈاکٹر نعیم الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ذہین دماغ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں، پاکستان میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ فیتے کاٹنا اور سڑکیں بنانا ہی ترقی ہے، یہ دنیاٹیلنٹ کی ہے اور ٹیلنٹ سے ہی ترقی ہوتی ہے امریکہ نے تمام بہترین دماغ اپنے پاس جمع کر لیے ہیں ہم نے ایک سروے کیا جس سے ظاہر ہوا کہ یہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانا چاہتی ہے،مجلس مذااکرہ سے خطاب کرتے ہوئے معروف اینکر سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ ملک سے ہجرت کرنا یا باہر جانا غیر قانونی کام نہیں ہے، اگر پاکستانی بیرون ممالک جا کر وہاں کی ترقی نہیں دیکھیں گے تو یہاں ترقی کیسےآئے گی، اگر ڈاکٹر قدیر باہر نہ جاتے اور وہ راز نہ لاتے توآج ہم محفوظ نہ ہوتے، یہ ملک اس لیے بنایا گیا تھا کہ مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکیں، یہ بہت اسان ہے کہ ہم ہر کسی بھی چیز کو سیاست کی نظر کر دیں، جب تک بیماری کی صحیح تشخیص نہ ہو اس کا علاج نہیں کیا جا سکتا، سینئیر صحافی و مصنف سجاد اظہرنے کہا کہ ہجرت کی وجہ معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کا احساس ہے جس کی جڑیں عالمی سامراجی نظام کے زیر اثر ہیں انگریز نے برصغیر میں ا کر اس کی معیشت کا بیڑا گھر کر دیا پچھلے 10 برسوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے 120 ارب ڈالر کا سرمایہ باہر منتقل کیا گیا، اور مصنف امجد صدیق نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ ایک جیل ہے جس سے نوجوان رہائی چاہتے ہیں بیرون ممالک جانے والوں میں سے بہت سے لوگ دیکھا دیکھی جاتے ہیں، والدین اپنے بچوں کو غیر قانونی طریقے سے باہر جانے اور خودکشی کرنے سے روکیں،ہمیں عوام کیآگاہی کے لیے سیمینار منعقد کرانا ہوں گے،مجلس مذاکرہ سے معروف اینکر حسن خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض معروف نوجوان صحافی و شاعرفدا حسین شیرازی نے سرانجام دیئے۔















