اسلام آباد(نامہ نگار)آزاد جموں و کشمیر حکومت نے 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے پرامن، آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی اضافی نفری فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر حکومت نے اس سلسلے میں وزارتِ داخلہ کو خط ارسال کیا ہے، جس میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر اضافی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی ناگزیر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے بھی انتخابات کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی سفارش کی ہے تاکہ پولنگ کا عمل آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اضافی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی 24 سے 30 جولائی تک مانگی گئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے 33 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 5 ہزار 926 پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی انتخابات کے دوران پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انتخابی عمل پر عوامی اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔
زرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو 45 حلقوں میں ہوں گے، جن میں 33 حلقے آزاد کشمیر جبکہ 12 حلقے پاکستان میں مقیم مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص ہیں۔ پاکستان میں قائم ان 12 مہاجرین کے حلقوں کے لیے سیکیورٹی پلان متعلقہ صوبائی انتظامیہ علیحدہ طور پر مرتب کرے گی۔
خط کے مطابق انتخابات کے لیے تعینات کی جانے والی اضافی نفری کا 70 فیصد اینٹی رائٹ گیئر سے لیس ہوگا، جبکہ 30 فیصد اہلکار اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔
آزاد کشمیر حکومت نے وزارتِ داخلہ سے فوری اقدامات کرتے ہوئے مطلوبہ اضافی نفری کی فراہمی کی درخواست کی ہے تاکہ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور انتخابی عمل کو ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ















