پشاور(اے بی این نیوز)خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر علاج اور تشخیص کی سہولیات اس رفتار سے نہیں بڑھ سکیں۔
خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 8 ہزار 567 تک پہنچ چکی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز پشاور، بنوں، مردان، چارسدہ اور ضم شدہ اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
جبکہ پورے صوبے میں مریضوں کی تشخیص اور علاج کے لیے صرف 13 سرکاری مراکز موجود ہیں۔محدود علاج مراکز کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو طویل سفر، اضافی اخراجات اور بروقت علاج میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہیلتھ کئیر پر کام کرنے والی سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ علاج کی سہولیات بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی جیسے مرض پر قابو پانے کے لیے صرف ادویات کافی نہیں، بلکہ بروقت تشخیص، علاج تک آسان رسائی، عوامی آگاہی اور مستقل فنڈنگ بھی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صوبے کے صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: خلائی مخلوق جیسی دیوقامت سُنڈی نے دنیا کو حیران کر دیا، مگر انسانوں کے لیے بے ضرر















