بیجنگ( اے بی این نیوز )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل اکانومی ناگزیر ہے، دنیا کو چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کہ ضرورت ہے جبکہ پاکستان سی پیک کے ذریعے چین کے تجربات سے سیکھ رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے زیر اہتمام “صنعت کاری اور ڈیجیٹل کنکٹیویٹی” کے عنوان سے ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے موجودہ حکومت کے برسراقتدار آتے ہی سی پیک کے تمام منصوبوں میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے ’صنعت کاری اور ڈیجیٹل دور کے رابطے‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتے کہا کہ صنعت کاری اور ڈیجیٹل دور کے رابطے نے دنیا کو بدل دیا ہے کیونکہ دونوں نے اقتصادی ترقی اور عالمی رابطے کے بے مثال مواقع فراہم کر دیئے ہیں تاہم انہوں نے کثیر الجہتی فورمز کے ذریعے مضبوط تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل پالیسیوں اور معیارات میں ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ دور انڈسٹری 4.0 کا ہے جس نے کاروبار اور سٹارٹ اپس کے لئے نئے راستے ہموار کر دیئے ہیں اور ہمیں ڈیجیٹل انقلاب سے پیدا ہوئے امکانات کا فائدہ اٹھانا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان میں آر اینڈ ڈی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر فنڈنگ فراہم کر رہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ڈیجیٹل کنکٹیویٹی نے صنعتی شعبوں میں مواصلات اور تعاون میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ای کامرس پلیٹ فارمز اور آن لائن کاروبار کو دنیا بھر میں صارفین تک پہنچنے کے قابل بناتے ہیں جبکہ ان کے کسٹمر بیس اور ترقی کے مواقع کو بڑھاتے ہیں۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ای پاکستان، 5 ایز ((Esفریم ورک میں سے ایک اہم “ای ” ہے جو کہ حال ہی میں وزارت منصوبہ بندی کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔















