اسلام آباد(اے بی این نیوز )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آئی ایم ایف کے حالیہ پیکج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے فوری ڈیفالٹ کے خدشات دور ہو گئے تاہم اس معاہدے کو دیرپا حل کے بجائے ایک عارضی ریلیف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام “آئی ایم ایف معاہدے سے آگے: پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے ٹویٹر اسپیس کے دوران عالمی اور پاکستانی سامعین سے کیا۔ واضح رہے کہ 30 جون کو پاکستان نے آئی ایم ایف سے 3 بلین ڈالر کا قلیل مدتی مالیاتی پیکج حاصل کیا جو موجودہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ہوا ۔ وفاقی وزیرنے اس معاہدے کو ایک انتہائی ضروری مہلت قرار دیا جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا تاہم انہوں نے طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ یہ معاہدہ 2022 میں ادائیگی کے شدید توازن کے بحران کی وجہ سے ضروری تھا، جو پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 84 بلین ڈالر کی درآمدات کی اجازت دینے کے بعد ملک کو 50 بلین ڈالر کے بدترین خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے اس معاہدہے کو محض ڈیل کا جشن منانے کے بجائے خود شناسی اور ملک کے لیے ترقی کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔















