اہم خبریں

اسلام آباد جیل کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے معاملہ ایوان بالاء میں اٹھایا جائے گا،چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال

اسلام آباد(اے بی این نیوز      ) ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال کی سربراہی میں سینٹرل اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔ اڈیالہ جیل میں قید عام قیدیوں کے وارڈز، خواتین وارڈز، بچوں کے وارڈ کے علاوہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات بشمول کچن، کھانے کا معیار، صفائی،رہن سہن، صحت کی سہولیات اور قائم میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹروں کی تعداد، قیدیوں کو دی جانے والی فنی تربیت، قیدیوں کے اہلحہ خانہ سے ان کی ملاقات کے طریقہ کار، اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے لئے گنجائش اور ان کی موجودہ تعداد کے علاوہ انتظامیہ کو درپیش چیلنجز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال نے کہاکہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ان کی موثر تربیت کرکے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کی مشاورت سے فیصلہ کیا تھاکہ یہ قائمہ کمیٹی ملک بھر میں قائم جیلوں کا دورہ کر کے قیدیوں کی حالت زار اور تمام امور کا جائزہ لے گی اس تجویز کو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے منظور کیا اور یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ قائمہ کمیٹی جلد ہی لاہوراور ساہیوال جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ ساہیوال جیل رقبے کے لحاظ سے ایشیاء کی سب سے بڑی جیل ہے۔ قائمہ کمیٹی کراچی،کوئٹہ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں قائم جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام محرکات کا مقصد ایسی تجاویز مرتب کرنی ہوں گی جن پر عملدرآمد کر کے قیدیوں اور انتظامیہ کو درپیش مسائل ہیں ان کے بہتر حل کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جیل کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے معاملہ ایوان بالاء میں اٹھایا جائے گا تاکہ اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زائد جو افراد قید ہیں اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جا سکے۔انہون نے کہا کہ اسلام آباد جیل کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے معاملہ ایوان بالاء میں اٹھایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید زیادہ تر قیدیوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرے گی کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے قیدیوں کو متعلقہ صوبے کی جیلوں میں منتقل کیاجائے تاکہ لواحقین کو ان سے ملنے میں بھی آسانی ہو۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب عبدالمعروف رانا نے قائمہ کمیٹی کو اڈیالہ جیل کے مختلف بیرکس، کچن و دیگر حصوں کا دورہ کرایا اور قائمہ کمیٹی کو متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں تقریبا53936 مجرم قید ہیں۔ جن میں سے 52289 مرد،944 خواتین اور703 کم عمر قیدی قید ہیں۔ 115 قید خواتین کے پاس 133 بچے بھی ہیں۔ خواتین بیرکس کو فی میل سٹاف ڈیل کرتا ہے۔ وہاں پر ڈبل لاک سسٹم ہے۔ تمام خواتین کو رہنے کے لئے لوہے کی چارپائیاں دی جاتی ہیں اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اڈیالہ جیل کے دورے کے دوران سینیٹرز ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، سیمی ایزدی، مشاہد حسین سید، عرفان الحق صدیقی، فلک ناز، سید وقار مہندی کے علاوہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر، ڈی آئی جی اڈیالہ جیل پنجاب عبدالمعروف رانا، ایس ایس پی سینئر سپرٹینڈینٹ اسد جاوید، سپیشل سیکرٹری ہوم، چیئرمین این سی ایچ آر، سیکرٹری این سی ایچ آراور ڈی جی وزارت انسانی حقوق و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں