مظفرآباد(اے بی این نیوز)نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے اعلان کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنوں سے متاثرہ بچوں کے تعلیمی نقصان کا فوری ازالہ کیا جائے گا اور بیشتر تعلیمی اداروں میں ڈی ایس ایل انٹرنیٹ کی بحالی یقینی بنائی جائے گی۔
احتجاج سے متاثر آزاد کشمیر، بالخصوص میرپور کی بزنس کمیونٹی کے نقصانات کے ازالے اور کاروباری سرگرمیوں کی مکمل بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ راستوں کی بندش ختم کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے؛ ڈپلومیسی اور رِٹ آف اسٹیٹ دونوں کو بروئے کار لا کر تمام بند راستے کھلوائے جائیں گے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا سے آزاد کشمیر آنے والے تمام راستوں پر بلا روک ٹوک نقل و حمل یقینی بنائی جائے گی تاکہ عوام، کاروبار اور سیاحت مزید متاثر نہ ہوں۔ نوجوان مرد و خواتین کے اضطراب کے خاتمے کے لیے جامع پلان لایا جائے گا، جبکہ پڑھے لکھے اور باصلاحیت نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے ساتھ نوجوانوں کو آئی ٹی، ای کامرس اور جدید آن لائن آمدن کے لیے ہنر اور عملی تربیت دی جائے گی۔احتجاج سے شدید متاثرہ ٹورازم انڈسٹری کی بحالی کے لیے ونٹر ٹورازم سیزن کو بھرپور بنایا جائے گا، جبکہ زراعت، لائیو اسٹاک اور مقامی آرگینک فوڈ کی پیداوار کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
جدید شاہرات، مظفرآباد۔مانسہرہ روڈ کنکشن، ماڈل سٹیز، بیوٹیفکیشن، پارکنگ اور بہتر شہری سہولیات کے ساتھ امن و امان کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہر شہری محفوظ، آزاد اور پُرسکون ماحول میں زندگی گزار سکے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتا ہوں۔ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔ پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے اور کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورا ہے۔
سرحدوں پر چوکَس نوجوانوں کا شکریہ، ان کی بدولت ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ پوری دنیا نے دیکھا پاکستان نے بھارت کو جنگ میں شکست دی۔ مضبوط پاکستان ہی کشمیریوں کی آزادی کی ضمانت ہے۔
مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، مستحق خواتین کیلئے اہم اپ ڈیٹ














