اہم خبریں

ملک بھرمیں تمام پاورہاؤسز فعال ہیں،کوشش ہے لوڈشیڈنگ2گھنٹے سےکم ہو ، وفاقی وزیرتوانائی

اسلام آباد( اے بی این نیوز      )وفاقی وزیرتوانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک بھرمیں تمام پاورہاؤسز فعال ہیں، حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لا کر بجلی پیدا کر رہی ہےجس میں تھر میں کوئلے ، جھمپیر میں ہوا سے، نیوکلئیر زرائع کے ساتھ ساتھ ہائیڈل بجلی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت پر بارشیں ہونے سے تربیلہ ڈیم اپنی فل کپیسٹی دے رہا ہے اس کا پانچواں یونٹ سروس کے لیے نکلا ہوا تھا وہ بھی واپس آ گیا ہے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ مختلف علاقوں سےبلوں کی بازیابی اور نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، جس فیڈر پر بلوں کی بازیابی 80 فیصد سے زیادہ موصول ہو رہی ہے نقصان 20 فیصد سے کم ہے وہاں پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بہت کم ہے اور کوشش ہے کہ شدیدگرمی میں بھی لوڈشیڈنگ2گھنٹے سےکم ہو ۔ وفاقی وزیرتوانائی نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں لوگوں کوپیسے واپس کئے گئے اور ہماری کوشش ہےکہ بجلی کےبلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کم سے کم رکھی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں خرم دستگیر نے کہا کہ اگر بغیر ریڈنگ کے بل آ رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں آپ وہ ہمارے نوٹس میں لے کر آئیں اسے ہم فوری طور پر درست کریں گے لیکن حقائق یہ ہے کہ ستمبر 2022 کے بعد سے بجلی کی بنیادی ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور جو بھی اس میں وقتا فووقتا نیپرا کی طرف سے سماہی ایڈجسٹمنٹ یا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہیں جسے ہم نے اپنے بہتر انتظام کے ذریعے کم سے کم رکھا ہوا ہے پچھلے سال جون کے بعد سے جو ایڈجسٹمنٹ ہے وہ بالکل کم ہے بلکہ نومبر، دسمبر اور جنوری کے بلوں میں پیسے واپس ہوئے اور ایڈجسٹمنٹ مائنس تھی ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس دفعہ جون کے مہینے میں گرمی زیادہ تھی اور زیادہ جنریشن ہوئی لیکن کوشش یہی ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کم سے کم رکھی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ڈسٹریبیوشن کمپنیز کے 2 حصے ہیں جن میں کیٹگری ون اورکیٹگری ٹو کے فیڈرز ہیں جو تقریبا 76ً فیصد ہے جہاں ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور نقصان 20 فیصد سے کم ہے۔ کیٹگری ون ٹو کے فیڈرز ہماری ہائیسٹ پرائرٹی ہیں جو تین چوتھائی یعنی 76 فیصد ہیں وہاں اس پورے سیزن میں کوشش یہی ہے کہ لوڈشیڈنگ دو گھنٹے یا اس سے کم کی ہو ، جون کے تیسرے ہفتے میں گرمی زیادہ پڑنے سے طلب بڑھی تو تب 3 سے ساڑھے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ کی گئی۔

متعلقہ خبریں