اہم خبریں

گندم کی ترسیل پر تنازع،خیبرپختونخوا کا پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ

گندم کی ترسیل پر تنازع،خیبرپختونخوا کا پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ

پشاور (اے بی این) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کی صورتحال مکمل طور پر نارمل ہے اور عوام کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو سالانہ تقریباً 5.4 ملین میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ صوبہ 1.6 ملین میٹرک ٹن گندم پیدا کرتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات کے مطابق اس وقت سرکاری گوداموں میں 153000 میٹرک ٹن گندم موجود ہے جب کہ نجی شعبے کے پاس بھی 116000 میٹرک ٹن سے زائد گندم کے ذخائر موجود ہیں جس کی وجہ سے صوبے میں گندم کی دستیابی تسلی بخش ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مقامی کاشتکاروں سے گندم خریدنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت 40 کلو گرام گندم 3500 روپے کے حساب سے خریدی جائے گی تاکہ کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل سکے اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حمل پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق گندم کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب معاون خصوصی برائے خوراک خیبرپختونخوا اسرار صافی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گندم کی پیداوار کم ہے، ہم پنجاب سے 3.8 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرتے ہیں، جب کہ پنجاب میں 60 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب میں فی میٹرک ٹن گندم 7 ہزار روپے تھی، اب 10 ہزار روپے ہے، ہمیں گندم نہیں دی جا رہی، اس لیے خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت زیادہ ہے اور پاسکو سے اب تک 175 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیں‌:ایل این جی گھریلو کنکشنز پر پابندی کے خاتمے کا امکان

متعلقہ خبریں