جنیوا، اسلام آباد (رضوان عباسی )انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی نائب صدر سردار امجد یوسف نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی گئی تھی اور بھارت و پاکستان دونوں نے اس پر اتفاق کیا تھا۔
سردار امجد یوسف نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کی اور اسے غیر قانونی طور پر اپنی یونین ٹیریٹریز میں شامل کر لیا۔ ان کے مطابق بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہر واقعے کے بعد کشمیری عوام کے خلاف تشدد کی نئی لہر دیکھنے میں آتی ہے۔
انہوں نے گزشتہ سال کی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھارتی افواج کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کے حلقے میں نو بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، جن میں ایک ہی خاندان کی تین خواتین بھی شامل تھیں، جو اس وقت شہید ہوئیں جب ان کے کچن پر بھارتی مارٹر گولہ آ گرا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی دفاعی تجزیہ کار دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ مکمل جنگ کی پیش گوئیاں کر رہے تھے۔
سردار امجد یوسف نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت مختلف طریقوں سے کشمیری عوام کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کے لیے مداخلت اور مسئلہ کشمیر پر مذاکرات بحال کرنے کے عزم کا کشمیری عوام نے خیر مقدم کیا تھا، تاہم مودی حکومت نے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ بھی اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔
انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں#
مزید پڑھیں :امریکی سفارتخانے کا سیکیورٹی الرٹ جاری ، عملے کی نقل و حرکت 15 مارچ تک محدود















