اہم خبریں

اقراء یونیورسٹی نے محمد رضوان باری سے متعلق چھپنے والی خبروں کی تردید کردی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اقراء یونیورسٹی کے ترجمان محمد حمزہ خان نے مختلف اخبارات چھپنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد رضوان باری کا اقراء یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں ایسی خبریں گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔ محمد باری کی اقراء یونیورسٹی میں تقرری 11 اکتوبر 2022کو ہوئی تھی جسے جعلی ڈگری اور دیگر جعلی کوائف کی وجہ سے 10 مارچ 2023 کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ،یہ فیصلہ ادارے کی مقتدارہ کمیٹی نے کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ محمد باری کی تقرری کے 5ماہ کے دوران ہی کیا تھا ۔ اس کے علاوہ اقرا یونیورسٹی کی طرف سے مزید وضاحت کی گئی کہ محمد باری کو اقراء یونیورسٹی کیس کی وجہ سے ایف آئی نے گرفتار کیا کیونکہ محمد باری نے اقرا یونیورسٹی کے سے متعلق جعلی شناخت (ای میلز سوشل میڈیا اکاؤنٹ ) کا استعمال کیا جس سے اقراء یونیورسٹی یا اس کے طلباء کا کوئی تعلق نہیں۔ اقراء یونیورسٹی معیاری تعلیم کی فراہمی ایمانداری اور احتسابی اقدار کو جاری رکھے گی ۔ واضح رہے کہ دیگر اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ محمد رضوان باری اقراء یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ہیں ۔

مزید پڑھیں : اِقراء یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر رضوان باری گرفتار

متعلقہ خبریں