اہم خبریں

کاروباری افراد ہوشیار، سائبر حملوں میں پانچ گنا اضافہ، کیسپرسکی کی رپورٹ جاری

کاروباری افراد ہوشیار،سائبر حملوں میں پانچ گنا اضافہ، کیسپرسکی کی رپورٹ جاری

اسلام آباد( اے بی این نیوز) کیسپرسکی کے مطابق جنوری سے اپریل 2026 کے دوران سیکیورٹی سلوشنز نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر 33 ہزار 300 سے زائد ایسے سائبر حملوں کا سراغ لگایا، جن میں پی سی کے لیے نقصان دہ یا غیر مطلوب سافٹ ویئر کو مقبول مصنوعی ذہانت سروسز کے بھیس میں پیش کیا گیا۔ یہ تعداد 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ 2026 کے آغاز میں سائبر حملوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے جعلی اے آئی پلیٹ فارمز میں چیٹ جی پی ٹی (42 فیصد)، کلاوڈ (24 فیصد) اور ڈیپ سیک (20 فیصد) شامل تھے۔

کیسپرسکی کے ماہرین نے ایس ایم بی سیکٹر میں دریافت ہونے والی منفرد نقصان دہ فائلوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں زیادہ تر ٹروجوئیر شامل تھا، یعنی ٹروجن اور ٹروجن جیسے میلویئر، جو متاثرہ ڈیوائسز پر مزید میلویئر ڈاؤن لوڈ اور چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹروجوئیر خود کو بے ضرر فائلوں کے طور پر ظاہر کرتا ہے تاکہ صارفین دھوکے میں آ کر انہیں انسٹال کر لیں۔ اس کی صلاحیتیں میلویئر کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں صارفین کا ڈیٹا چوری کرنا، حذف کرنا، بلاک کرنا، تبدیل کرنا یا نقل کرنا، سمیت دیگر نقصان دہ سرگرمیاں شامل ہیں۔

تاہم2026 میں کیسپرسکی کی ٹیلی میٹری نے اس سے بھی زیادہ ایسے حملوں کا پتہ لگایا جن میں پی سی کے لیے نقصان دہ یا غیر مطلوب سافٹ ویئر کو میسجنگ ایپس اور ویڈیو کانفرنسنگ سافٹ ویئر، جیسے ٹیلی گرام، واٹس ایپ، زوم اور مائیکروسافٹ ٹیمز کے بھیس میں پیش کیا گیا۔ جنوری سے اپریل کے دوران کیسپرسکی کے سلوشنز نے ایسے تقریباً 4 لاکھ 15 ہزار حملوں کو بلاک کیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ان حملوں کی تعداد میں معمولی فرق دیکھا گیا۔

کیسپرسکی کے سیکیورٹی ماہر واسیلی کولیسنیکوف کا کہنا ہے کہ ‘سائبر خطرات کا منظرنامہ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور حملہ آور نت نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ کارپوریٹ ملازمین اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مختلف اے آئی سروسز اور دیگر آن لائن ٹولز کا بڑھ چڑھ کر استعمال کر رہے ہیں، جن میں عوامی طور پر دستیاب پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔ اس لیے ایس ایم بی ملازمین سمیت تمام صارفین کو انٹرنیٹ سے سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے، ویب سائٹس کے درست ہجے اور مشکوک ای میلز میں موجود لنکس کی اچھی طرح جانچ کرنی چاہیے، اور مضبوط سیکیورٹی سلوشنز استعمال کرنے چاہییں۔”

کیسپرسکی اسمال آفس سیکیورٹی کے پروڈکٹ مینیجر روڈیون پیانوفنے کہا کہ ‘حملہ آور مسلسل انسانی غلطیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی حکمتِ عملی بہتر بنا رہے ہیں، جس کے باعث ہر قسم اور ہر حجم کے کاروبار کے لیے جدید سیکیورٹی آگاہی کی تربیت ناگزیر ہو چکی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے اداروں کے لیے وقت اور بجٹ کی کمی کے باعث اپنے عملے کو نئے خطرات اور سائبر رجحانات سے مسلسل آگاہ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ ہمارا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا مؤثر حل ایسے سیکیورٹی سلوشنز ہیں جو خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے تیار کیے گئے ہوں، بنیادی تحفظ کے ساتھ ساتھ ملازمین کو آسان اور مؤثر سیکیورٹی آگاہی بھی فراہم کریں۔’

کیسپرسکی کے مطابق ایس ایم بیز کو چاہیے کہ وہ ایسے سیکیورٹی سلوشنز کا انتخاب کریں جو ان کے بجٹ، کاروبار کے حجم اور صنعت کی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں مثال کے طور پر کیسپرسکی سمال آفس سکیورٹی پریمئیم ایک آسان اور مؤثر سیکیورٹی حل ہے جو مائیکرو کاروباروں کے لیے موزوں انتخاب بن جاتا ہے۔ دوسری جانب، ایسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے جن کے پاس نسبتاً بہتر آئی ٹی مہارت موجود ہو، ان کے لیے کیسپرسکی نیکسٹ آپٹیمم ایک مناسب انتخاب ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی تنظیموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جن اداروں کے پاس سائبر سیکیورٹی کا مخصوص عملہ موجود نہیں یا جو 24 گھنٹے نگرانی کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لیے منظم سیکیورٹی خدمات انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ کیسپرسکی ایم ڈی آر ایک ماہرین کی زیر نگرانی سروس ہے جو چوبیس گھنٹے خطرات کی نشاندہی، مسلسل تحفظ، واقعے کے مکمل انتظام اور مؤثر تدارک کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں‌:نائب وزیراعظم کے رشتہ دار رضا ڈار کے خلاف بڑا انکشاف، جانیے اہم تفصیلات

متعلقہ خبریں