اہم خبریں

سائفر معاملہ، ہم چاہتےہیں اس مسئلہ کو اب اپنے انجام تک جانا چاہئے، وکیل شیر افضل

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل کا کہنا ہے اعظم خان کے بیان نے سائفر کا ایشو آج دوبارہ زندہ کر دیا ہے جس پر پی ٹی آئی کا موقف اپناتے ہوئے وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا۔ دیگر 180 کیسس کی طرح اس کی حقیقت بھی نہ ثابت ہوئی تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ہم چاہئے ہیں اس مسئلہ کو اب اپنے انجام تک جانا چاہئے۔ جب مقدمہ ہوا تو اس میں اٹارنی جنرل نے کوئی ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں باجوہ ملوث ہو رہا تھا آج ان کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سائفر ایک حقیقت ہےموجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس وقت عنصر مجید کو بلایا اور انہوں نے اس کو حقیقت مانا سائفر سپیکر کے سامنے رکھا گیا اور پی ٹی آئی نے کہا کہ اس پر جوڈیشل انکوئری کروائی جائے۔ اعظم خان 15جون کو گھر سے نکلتے ہیں اور اغوا ہو جاتے ہیں۔ ان کی فیملی پولیس کو بتاتی ہے وہ اغوا ہو گئے ہیں جو تینتس دن غائب رہے ۔اعظم خان کو کس کی تھویل سے عدالت لے جایا گیا۔اعظم خان اچانک نکل کر بیان دیا ہے اس کے بعد میڈیا پر بیان کیوں نہ دیا ؟ بیان سے پہلے فیزیکل ریمانڈ کس دیا ؟ اعظم خان کا بیان جج صاحب کے بجائے ایسسٹنٹ کمشنر کس حیثیت سے بیان ریکارڈ کرتا۔اعظم خان کے اس بیان کو سلطانی گواہ بنانا چاہئے ہیں ۔ ڈیو پراسس آف لا اور فیر ٹرائلز ہر پاکستانی کا حق ہے۔جس بیان میں 364 کا ایویڈنس نہیں دیا جاتا تو اس کی کوئی حقیقت نہیں اگر اعظم خان انصاف کے لئے بیان دیا تو پاکستان کی عوام بھی یہ ہی چاہئی ہے۔سائفر کے معملے کی مکمل تفتیش ہو پر عدالتی نظام کے زریع کرائی جائے۔اگر کسی جج پر اعتماد نہیں تو تین جج منتخب کر لیں جو فیصلہ کریں ہم چاہئے ہیں اس مسئلہ کو اب اپنے انجام تک جانا چاہئے۔ شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا سائفر کابینہ کے سامنے لایا گیا، اس کو منٹس میں شامل کیا گیا، غیر ملکی سفیر نے بھی سائفر کی تصدیق کی ہے، سائفر قومی اسمبلی میں لایاگیا اور کاپی چیف جسٹس کو بھیجی گئی، ڈونلڈ لو نے جنرل باجوہ کے لیے پیغام بھیجا کہ پی ٹی آئی حکومت کو چلتا کریں۔

متعلقہ خبریں