اسلام آباد (اے بی این نیوز )پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 3 ارب ڈالرز کے قرضے دیے جانے کے معاملے کا فارنزک آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت ہوا جس میں پی ٹی آئی دور حکومت میں 3 ارب ڈالرز کے قرضے دیے جانے کے معاملے پر غور کیا گیا۔پی اے سی نے 3 ارب ڈالرز کے قرضوں کے معاملےکا فارنزک آڈٹ کرانے کا حکم دیا۔ نور عالم خان نے استفسار کیا کہ 19 اپریل کو اسٹیٹ بینک کولکھا تھا 3 ارب ڈالرز 620 لوگوں کو قرضہ دیاگیا، آپ نے جو قرضہ 5 فیصد پر دیا اس سے فائدہ کیا ہوا؟ آپ کی پالیسی اتنی اچھی تھی تو کشکول اور بڑا کیوں کیا؟اس پر سیکرٹری خزانہ نے بتایاکہ یہ ری فنانس اسکیم تھی، یہ اسٹیٹ بینک کا مینڈیٹ ہے، اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکس کے ذریعے عملدرآمد کرایا تھا، یہ بینک اور کلائنٹ کے درمیان کی معلومات ہے۔پی ٹی آئی دور میں 600 کاروباری افراد کو 3 ارب ڈالر صفر شرحِ سود پر دینے کا معاملہ، اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ طلب کیا ہے۔















