اسلام آباد (اے بی این نیوز)اسلام آباد میں خوفناک روڈ حادثے میں جاں بحق ہونے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مفتی عبدالشکور نے یکم جنوری 1968 کو لکی مروت کے گاؤں تاجبی خیل میں میں ایک قدامت پسند مذہبی خاندان میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کی اور مذہبی تعلیم کے لیے اکوڑہ خٹک کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ کا رخ کیا، جہاں سے 1993 میں اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔وہ نہ صرف پشاور بلکہ بنوں، رحیم یار خان اور دیگر شہروں میں بھی درس و تدریس کے لیے باقاعدگی سے جاتے تھے۔ سال 2002 میں وہ پشاور کے پلوسی علاقہ کی ایک جامع مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور آخری وقت تک پشاور میں اپنے قیام کے دوران امامت کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے۔مفتی عبدالشکور حیدرآباد کی مشہور شاہ ولی اللہ اکیڈمی میں بھی زیر تعلیم رہے اور وہاں سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا بعد میں 1995 میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تخصص فی الفقہ میں سند حاصل کرنے کے بعد 1997 سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔مفتی عبدالشکور وفاقی وزیر بننے کے بعد بھی لکی مروت میں اپنے آبائی گھر میں رہتے تھے جو ایک کچا مکان ہے۔’آپ کو معلوم ہے کہ مٹی کے گھروں کو مرمت کی بھی زیادہ ضرورت پڑتی ہے جب بھی ایسی نوبت آتی تو مرمت کا کام بھی مفتی صاحب خود ہی کیا کرتے تھے۔ ان خاندان کے دیگر افراد ابھی تک لکی مروت میں رہائش پذیر ہیں تاہم انہوں نے اپنے خاندان کو پشاور منتقل کردیا تھا، جہاں جامع مسجد کے خطیب ہونے کے ناطہ مسجد کی جانب سے خطیب کے لیے مختص شدہ گھر میں رہتے تھے۔’ان کی قابلیت اور محنت کو دیکھ سے پارٹی نے انہیں قبائل کا امیر بنایا اور انہوں نے 2018 میں تحریک انصاف کے مقابلے میں ایف آر کی سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔ پہلے رکن پارلیمنٹ اور گزشتہ سال وفاقی وزیر بننے کے باوجود انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کو پشاور سے اسلام آباد منتقل نہیں کیا۔ انہوں نے بیوی، بیٹیوں، سمیت ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔















