اسلام آباد (اے بی این نیوز )قرآن مجید کے شہید اوراق کے لئے مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر اقدامات کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا گیا،مجوزہ طریقہ کار کے تحت بوسیدہ اور ضعیف اوراق کو دفن یا پانی میں بہا دیا جاتاہے۔قرآن مجید کے شہید وبوسیدہ اوراق کو دوبارہ قابل استعمال بنانے(ری سائیکلنگ) کے لئے جدید مشین نصب کی جائے گی۔حاجی کیمپ راولپنڈی میں اس مقصد کے لئے جدید عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔علما کے مشورے سے جدید مشین درآمد کررہے ہیں۔مشین میں شہید اوراق کو پہلے صاف(واش) کیا جائے گا۔بوسیدہ اوراق کو پلپ(گودے) میں تبدیل کیا جائے گا۔بوسیدہ صفحات سے الگ ہونے والی سیاحی کو بھی محفوظ بنایا جائے گا،تاکہ بے ادبی نہ ہو۔پلپ (گودے)سے دوبارہ کاغذ بنائے جائے گا۔اس کاغذ کو قرآن پاک اور دیگر دینی کتب کی اشاعت میں استعمال کیا جائے گا۔بوسیدہ اوراق کودوبارہ قابل استعمال بنانے کا یہ طریقہ پہلی مرتبہ پاکستان میں اختیار کیاجا رہا ہے۔سعودی عرب اور ترکی میں بھی اب تک ایسا نہیں کیا جا سکا، سعودی عرب اور ترکی نے بھی اب اس طریقہ کار پر کام شروع کردیاہے،قرآن مجید کے شہید اور بوسیدہ اوراق کے لئے اقدامات مستحسن قدم ہیں۔چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی مذہبی امور کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کا احترام بہت ضروری ہے۔ کوئٹہ میں جبل نور نامی پہاڑی میں قرآن پاک کے شہید نسخے محفوظ کئے گئے ہیں۔ سرکاری طور پرقرآن کے بوسیدہ اوراق کی حفاظت کا انتظام ضروری ہے۔ سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ اسلامی ممالک میں اس متعلق کیا پالیسیاں ہیں ، وزارت مذہبی امور حکام نے بتایاسعودی عرب میں برن سیکشن ہے جہاں قرآن مجید کی نسخوں کو جلایا جاتا ہے،قرآن بورڈ اس کی نگرانی کرے گا ، پہلے سیاہی نکالی جائے گی اور اوراق کے استعمال کو ری سائیکلنگ کی جائے گی ،یہ پی ایس ڈی پی کا منصوبہ ہے ،سینیٹر حافظ عبدالکریم ، سینیٹر انور دین لال ، سینیٹر کلدیپ سنگھ ، سینیٹر محمد صابر شاہ ، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ سمیت وزارت مذہبی امور کے حکام نے شریک کی۔















