اسلام آباد(اے بی این نیوز) کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم نے کول کلائینٹ بیک ڈور وائرس کے ایک نئے اور جدید ورژن کا سراغ لگایا ہے۔ یہ ایک قسم کا میلویئر ہے جو حملہ آوروں کو متاثرہ نظام تک دور سے رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے میانمار، منگولیا، پاکستان، بھارت اور روس میں کاروباری اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
کیسپرسکی کے مطابق کول کلائینٹ کے نئے ورژن کا تعلق ہنی مائیٹ اے پی ٹی سے ہے، جسے مسٹینگ پانڈا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مہم 2026 میں ایشیا اور روس میں سائبر جاسوسی کے لیے جاری رہی۔ مشاہدہ کی گئی مہم میں حملہ آوروں نے پلگ ایکس نامی ایک اور بیک ڈور استعمال کیا، جو ابتدائی سائبر حملے کے بعد عام طور پر تعینات کیا جاتا ہے، اور اسی کے ذریعے کول کلائینٹ کے اجزا متاثرہ نظام تک پہنچائے گئے۔ جس سے یہ زیادہ خفیہ طور پر کام کرے اور اس کی شناخت اور صفائی مشکل ہو جائے۔۔
میلویئر کی تنصیب سے قبل حملہ آور نے مائیکرو سافٹ ڈیفنڈر میں مخصوص فولڈر اور فائل کو اسکین سے مستثنیٰ قرار دیا۔ ان استثنیٰ میں ونڈوز ڈیفنڈر سے مشابہ ایک جعلی ڈائریکٹری اور تبدیل شدہ نام والی فائل شامل تھی۔ حملہ آور نے بعد ازاں جعلی ڈائریکٹری بنائی، کول کلائنٹ کی فائلیں اس میں منتقل کیں اور ایک جائز سینگفور پروگرام کا نام تبدیل کرکے ڈیفنڈر ایکس ای رکھ دیا تاکہ اسے نقصان دہ کوڈ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم کے سیکیورٹی ریسرچر فرید رادزی نے کہا کہ کول کلئینٹ کا تازہ ترین ورژن اس میلویئر میں نمایاں ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پہلے صرف یوزر موڈ بیک ڈور اور پلگ اِن سپورٹ تک محدود تھا، تاہم اب یہ کرنل موڈ ڈرائیور کے ذریعے کام اور رابطہ قائم کرتا ہے، جس سے اس کی صلاحیتیں سابقہ ورژنز کے مقابلے میں بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈرائیور کول کلائینٹ کو پراسیسز، فائلوں اور رجسٹری آبجیکٹس کو چھپانے اور محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مخصوص نیٹ ورک معلومات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس کے باعث اس کی شناخت اور تجزیہ خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول، متاثرہ ادارے کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ میلویئر سمجھوتہ شدہ نظام پر فعال رہ سکتا ہے، جبکہ اپنی موجودگی کے اہم شواہد چھپانے اور سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے اس کی جانچ یا خاتمے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔
کاسپرسکی کے ماہرین نے اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہنی مائیٹ سے متعلق دیگر ٹولز کے خلاف انتہائی محتاط رہیں۔ ماہرین نے اداروں کو ریئل ٹائم تحفظ، خطرات کی نگرانی، تحقیقات اور ردعمل کی صلاحیتوں کے لیے کیسپرسکی نیکسٹ جیسی جامع سیکیورٹی مصنوعات استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس کے علاوہ، اداروں کے انفارمیشن سیکیورٹی ماہرین کو سائبر خطرات کی گہری اور جامع معلومات فراہم کرنے کے لیے کیسپرسکی تھریٹ انٹیلیجنس سے فائدہ اٹھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ کیسپرسکی کے مطابق جن کمپنیوں کے پاس سائبر سیکیورٹی کی مطلوبہ مہارت موجود نہیں، وہ ایم ڈی آر جیسی مینیجڈ سیکیورٹی خدمات حاصل کر سکتی ہیں، جو خطرے کی نشاندہی سے لے کر مسلسل تحفظ اور نظام کی بحالی تک سائبر واقعے کے مکمل انتظام میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بڑی کمی















