اسلام آباد (اے بی این نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے تعاون سے متعلق اہم سیاسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت سے تعاون معطل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی ہو سکتی ہے تو ہونی چاہیے لیکن انصاف نہ ہوا تو ن لیگ کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہو جائے گا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمنٹ کا احترام کیا ہے اور اس کی مکمل فعالیت چاہتی ہے تاہم پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت سے تعاون معطل رہے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنا فعال کردار ادا کرے اور اس مقصد کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو بھی فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی امور کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے تاہم پارلیمانی نظام کو موثر بنانے کے لیے ایوان اور اس کی کمیٹیوں کا فعال کردار ضروری ہے۔
لائیو: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ https://t.co/HW1nxVISBZ
— PPP (@MediaCellPPP) August 19, 2026
حکومت سے تعاون کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے اعتراضات دور ہونے تک ن لیگ سے تعاون نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی ہو سکتی ہے تو ہونی چاہیے، چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ انصاف ہو، کیونکہ انصاف نہ ہوا تو ن لیگ کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہو جائے گا۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس معاملے پر پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے فیصلے کو کل تسلیم نہیں کیا اور آج بھی نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر پہلے ہی اتفاق رائے ہے جب کہ نئے صوبے سندھ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف سب کو معلوم ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق نئے صوبے ایسے نہیں بننے چاہئیں جہاں اتفاق رائے نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خودمختاری اور جائیداد کے حقوق کے منشور پر دو الیکشن لڑ چکے ہیں اور ان کی ترجیح یہ تھی کہ ایوان اپنا فعال کردار ادا کرے۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کا علاج ہونا چاہیے تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بجائے حکومت خود ان کا علاج کرتی تو بہتر ہوتا۔
انتخابی عمل کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انتخابات پر اعتراضات اٹھائے جائیں۔ ان کے مطابق انتخابی عمل کو بہتر بنانا سب کا فرض ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر انتخابی اصلاحات پر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ الیکشن کے دوران سیاسی کارکن کی لاش لے کر جانا پڑے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کو جمہوری سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنی شکست بخوشی قبول کرتی ہے۔
آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے خطے میں ہونے والے انتخابات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ تھا جسے پر کیا گیا۔
28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں اور آج تک ایسی کوئی تجویز ان کے پاس نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اتحادیوں میں اتفاق رائے ہے تاہم 28ویں ترمیم کے حوالے سے کسی باضابطہ تجویز سے آگاہ نہیں۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہونے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ صفحہ ایک ہی ہوسکتا ہے، لیکن “دال میں کچھ کالا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ انصاف ہو۔ ان کے مطابق انصاف نہ ہوا تو ن لیگ کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہو جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی موقف نہیں لیا، صرف ایک سوال کا جواب دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کو ایوان میں ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی رہنماؤں کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں سینیٹرز شیری رحمان، شازیہ مری اور فاروق ایچ نائیک نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے اجلاس کے شرکاء کو ممکنہ نئی قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد پولیس میں نوکریوں کا سنہری موقع، نئی آسامیوں کا اعلان















