اسلام آباد( اے بی این نیوز )بیرسٹرعلی ظفرنےسینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہو ئے کہا کہ یہ ٹیکسوں والاناکام بجٹ ہے۔ بجٹ میں ٹیکس منظورہوگئےتوجلدانقلاب آئے۔
وزیرخزانہ تسلیم کرچکےہیں کہ معاشی ترقی سست روی کاشکارہے۔
3.8ٹریلین روپےکےٹیکس اکٹھاکرنےکی کوئی منطق نہیں۔ اس کابوجھ عام آدمی اورتنخواہ دارطبقےپرآئےگا۔
8ہزار500بلین روپےکاخسارہ کہاں سےپوراہوگا؟۔ سٹیٹ بینک مزیدپیسہ چھاپےگاتوافراط زربڑھےگا۔
ٹیکسوں پرآمدن40فیصدبڑھانےکافیصلہ بھی قابل قبول نہیں۔ اتنےٹیکس بڑھانےسےمعاشی ترقی رکےگی۔
مزید پڑھیں :وزیراعظم شہبازشریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی ملاقات















