عیدالاضحیٰ کے موقع پر گھروں میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے اور مختلف پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عیدالاضحیٰ میں گوشت کے فوائد انسانی جسم کے لیے بے حد اہم ہیں، تاہم گوشت کا درست اور متوازن استعمال صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
گائے، بکرے اور دنبے کا گوشت پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 سے بھرپور ہوتا ہے جو جسمانی طاقت، خون کی کمی دور کرنے اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر بچے، نوجوان اور کمزوری محسوس کرنے والے افراد کے لیے مناسب مقدار میں گوشت مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق بکرے کا گوشت نسبتاً ہلکا اور آسانی سے ہضم ہونے والا مانا جاتا ہے جبکہ گائے کے گوشت میں آئرن اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح دنبے کے گوشت میں توانائی زیادہ پائی جاتی ہے لیکن اسے اعتدال میں کھانا ضروری ہے۔
گوشت کا کون سا حصہ زیادہ فائدہ مند ہے؟
ماہرین کے مطابق ران، چانپ اور بغیر زیادہ چربی والا گوشت انسانی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ران کا گوشت پروٹین سے بھرپور اور نسبتاً کم چکنائی والا ہوتا ہے جس سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔ چانپ کا گوشت نرم اور ذائقے دار ہونے کے ساتھ غذائیت سے بھی بھرپور سمجھا جاتا ہے۔
دل اور جگر بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ جگر میں آئرن اور وٹامن اے زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے جو خون کی کمی دور کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اسے زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
احتیاط بھی ضروری
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عید پر زیادہ تلی ہوئی اور مصالحے دار غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ گوشت کے ساتھ سلاد، دہی اور پانی کا زیادہ استعمال نظام ہضم کو بہتر رکھتا ہے۔ دل، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریضوں کو چربی والا گوشت کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
متوازن غذا اور احتیاط کے ساتھ عیدالاضحیٰ کا گوشت نہ صرف ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔















