لاہور (نیوزڈیسک) مشہور ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیکل اے تھامسن گورنر پنجاب سے اختلافات پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔تھامسن نے اپنے عملے کو ایک خط لکھا، جس میں کالج کے اندر سرکاری مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کئی ایسے اقدامات کی نشاندہی کی جنہوں نے کالج کی انتظامیہ کو بری طرح متاثر کیا۔سبکدوش ہونے والے پرنسپل اپنے استعفیٰ کی وجہ کے طور پر چند افراد کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں میں کی گئی تبدیلیوں سے خوش نہیں تھے، پرنسپل مزکورہ نے میرٹ کے منافی اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے پر مجبورہوئے۔
انہوں نے گورنر کے ساتھ اختلافات بالخصوص ایک وفاقی وزیر کے بچوں پر عائد جرمانے پر معافی مانگنے کے حوالے سے ذہنی دبائو ڈالا گیا ۔تھامسن نے سیاست اور اقربا پروری کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے پر زور دیا، معاملات میں مداخلت کی سطح پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ تھامسن نے استعفیٰ دینے کا یہ پہلا موقع نہیں۔
اس سے قبل بھی پرنسپل مائیکل اے تھامسن نے 2018 میں اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا لیکن اس وقت کے گورنر محمد سرور کی طرف سے منانے کے بعد اسے واپس لے لیا تھا۔















