کراچی(نیوزڈیسک) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا دھاندلی الزامات پر سندھ اسمبلی کی جیتی ہوئی سیٹ چھوڑنے کا اعلان ۔ حافظ نعیم الرحمن کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کا کہنا تھاکہ 8 فروری کو متعدد پولنگ اسٹیشنز پر وقت پر پولنگ شروع نہیں ہوئی،
ہم پولنگ شروع نہ ہونے کی شکایات کرتے رہے، عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کارروائی کرنے والوں نے پہلے کیمرے ہٹائے اور پھر ڈبے بھرنے شروع کردیئے، فارم 45 جاری نہیں کئے گئے، بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹس کو فارم فراہم ہی نہیں کیے ، فارم 47 میں بدترین دھاندلی کی گئی، آر او کے آفسز کو چاروں اطراف سے سیل کیا گیا تاکہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے،
مزید پڑھیں:فاروق ستار، مصطفیٰ کمال ،حفیظ الدین سمیت متعدد امیدواروں کی کامیابی عدالت میں چیلنج
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم حقائق قوم کے سامنے لاتے رہیں گے ۔ بلدیاتی الیکشن سے زیادہ لوگوں نے اس بار جماعت اسلامی کو ووٹ ڈالے، ووٹ یا تو جماعت اسلامی کو پڑے یا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو پڑے، جو کچھ پورے ملک میں ہو رہا ہے وہ تماشے سے زیادہ کچھ نہیں ، ڈنڈے اور زبردستی کا مینڈیٹ ہمیں نہیں چاہیے ۔
ہمیں خیرات کی سیٹ نہیں چاہیے، میں اپنی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں، میں اتنا ظرف رکھتا ہوں، میں وہ سیٹ نہیں لوں گا۔یاد رہے حافظ نعیم الرحمان سندھ اسمبلی کے حلقہ 129 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، 147 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کیمطابق جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن 26926 ووٹ لے کر کامیاب رہے تھے















