ڈھاکا (اے بی این نیوز) بنگلہ دیش حکومت نے سابق اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ حالیہ میڈیا پروگرام میں شرکت کے بعد ان کے لیے دوبارہ ملک کی نمائندگی کی گنجائش نہیں رہی۔
رپورٹس کے مطابق شکیب الحسن نے بدھ کو نئی دہلی میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے میڈیا پروگرام میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کی تھی۔ اس پروگرام کے بعد بنگلہ دیش میں ان کے خلاف ایک بار پھر شدید ردعمل سامنے آیا۔
بنگلہ دیش کے کھیلوں کے وزیر امین الحق نے کہا کہ حکومت پہلے شکیب الحسن کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد یہ رویہ برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق جو شخص سابق وزیراعظم کے ساتھ ایک ہی پروگرام میں شریک ہوا، اس کے لیے قومی ٹیم میں واپسی کی گنجائش نہیں رہی۔
39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ملک کی جانب سے 400 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں اور پانچ عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
شکیب الحسن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ سے وابستہ رہے اور 2024 میں پارلیمانی انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے تھے۔ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد شکیب ملک سے باہر مقیم ہیں اور ان کے خلاف قتل سمیت متعدد مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں۔ شکیب ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔
حالیہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب شیخ حسینہ کے میڈیا پروگرام میں شرکت کے بعد شکیب کے آبائی گھر پر حملہ کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور پٹرول بم پھینکے، تاہم واقعے کے وقت گھر خالی تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
شکیب الحسن نے اس کے باوجود بنگلہ دیش واپس آنے اور اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہیں سکیورٹی فراہم کرے تو وہ وطن واپس آکر قانونی کارروائی کا سامنا کرنے اور اپنے کرکٹ کیریئر کا اختتام ایک مکمل سیریز کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔
شکیب نے 2025 میں بھی اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ بنگلہ دیش واپس آکر تینوں فارمیٹس میں ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔
شکیب الحسن اب 2027 کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی امید بھی ظاہر کر رہے ہیں، تاہم حکومت کے حالیہ واضح مؤقف کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات انتہائی غیر یقینی ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں :مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق بڑی خبر، اہم ویڈیو منظرعام پر آگئی















