اسلام آباد ( ندیم چوہدری ) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) کے ملازمین کو سابقہ حکومت کے لائے گئے ایم ٹی آئی بل کا خاتمہ راس نہ آیا، افسران نے پمز کو ہی میدان جنگ بنا لیا ،3 جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آمنے سامنے آ گئے ، کراچی کمپنی تھانہ میں سیکورٹی سپر وائز کے خلاف جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل نے ایف آئی آر درج کروا دی، تھانے میں دی گئی درخواست میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل وارث علی رضا نے کہا ہے کہ سیکورٹی سپر وائز نے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال درانی کے کہنے پر ڈائریکٹر ہسپتال ڈاکٹر خالد مسعود کے دفتر کے باہر لگی ان کے نام کی تختی اتار دی ہے ، جو کہ غیر قانونی اقدام ہے ، جب کہ تیسرے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ کمال نے سیکورٹی سپر وائز ر کو اس ایف آئی آر کی روشنی میں معطل کر دیا ۔ سابقہ حکومت کے نافذ کرتا ایم ٹی آئی ( میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ) ایکٹ نافذ کئے جانے کے خلاف پمز کے ملازمین 70 روز سے زائد دھرنہ دیئے رکھا اور وفاقی دارالحکومت سمیت پورے ملک سے آنے والے مریضوں کو علاج معالجہ سے محروم کیا لیکن یہ ایکٹ ختم ہوتے ہیں پمز کے اپنے افسران سابقہ ایکٹ کے تحت بننے والے ڈائریکٹر ہسپتال کی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے ۔ پمز ملازمین کی مشترکہ تنظیم جوائنٹ ہیلتھ الائنس بھی ایم ٹی آئی خاتمہ کے بعد زیر زمین چلی گئی ، وزارت قومی صحت کی جانب سے بھی وفاقی وزیر صحت کے ڈائریکٹر کی خواہش پر سابقہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت ڈین کی خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر رضوان تاج کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا چارج دے دیا گیا ، وفاقی وزیر صحت نے جنیوا سے وطن واپس آتے ہیں یونیسیف کے فنڈز نے معذور بچوں کے لئے ملنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز سے پروگرام شروع کرایا تھا جسے پمز میں ہی دو کمروں کے فزیو تھراپی کے شعبہ میں بنا کر افتتاح کر دیا گیا اور ڈاکٹر رضوان تاج کو ہی اس کا سربراہ بنا دیا گیا تھا جب کہ اس مرض کے ماہر ڈاکٹر ہاشم تھے جنہیں اس ایونٹ میں دعوت تک نہ دی گئی ۔ انہیں خدمات کےصلہ میں ڈاکٹر رضوان تاج کو قائمقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی تعینات کر دیا ہے ، وزیر اعظم آفس کی جانب سے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے لئے تین ناموں پر مشتمل سمری منگوائی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق بڑی سیاسی شخصیت کی سفارش پر شعبہ امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر نعیم کا نام سر فہرست ہے ۔ ایم ٹی آئی تو ختم ہو گیا لیکن پمز ملازمین نے اب آپس میں لڑائی شروع کر دی ۔ اقتدار کی جنگ میں مریضوں کو مستقبل کیا ہو گا آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ایم ٹی آئی کے دور میں ہسپتا ل میں مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے بھاری فیسیں وصول کی جاتی رہی ہیں جب کہ ایم ٹی آئی میں من پسند شخصیات کو بھی اعلی عہدوں پر فائز کیا جاتا رہا ہے ۔ سابق وزیر اعظم کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی ہی کی سفارش پر مبینہ طور پر ڈائریکٹر ہسپتال کی تعیناتی کی گئ تھی جن کے دور میں کروڑوں روپے کی خرد برد کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں ۔ ان کے دور میں لائی گئی 2 سی ٹی سکین مشینیں تاحال پمز کے برآمدوں میں پڑی پڑی خراب ہور ہی ہیں جنہیں نصب نہیں کیا گیا















