اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے سمیت متعدد اہم مالیاتی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد محصولات میں اضافہ، ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور مختلف شعبوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے آمدنی حاصل کرنے والے افراد پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت آن لائن مونیٹائزیشن، اسپانسرشپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی کمائی پر مالیاتی ادارے ٹیکس وصول کریں گے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں کانٹینٹ کریئیٹرز، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کاروبار سے وابستہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے مہنگی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق دو سے تین کروڑ روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد جبکہ تین کروڑ روپے سے زائد قیمت والی گاڑیوں پر 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ میں عوامی ریلیف کے لیے بھی چند اہم اقدامات شامل ہیں۔ خواتین کی ضروری استعمال کی اشیاء پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح مانع حمل مصنوعات پر موجود 18 فیصد ٹیکس بھی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں شپنگ سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس میں چھوٹ اور ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری پر ٹیکس رعایت کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت ایک طرف سوشل میڈیا آمدنی پر ٹیکس سمیت نئے ذرائع سے ریونیو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عوامی ضروریات اور بعض صنعتی شعبوں کو ریلیف دینے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔















