اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم درآمدات، تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32 ارب 85 کروڑ ڈالر سے زائد رکھا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک برآمدات 30 ارب 30 کروڑ ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال درآمدات 70 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جبکہ رواں مالی سال درآمدات کا حجم 66 ارب 29 کروڑ ڈالر رہنے کی توقع ہے۔
اسی طرح آئندہ مالی سال تجارتی خسارے کا ہدف 37 ارب 17 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ خسارہ 35 ارب 98 کروڑ ڈالر رہنے کا اندازہ ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر 42 ارب 38 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 41 ارب 27 کروڑ ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب 59 کروڑ ڈالر تک رہ سکتا ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ خسارہ ایک ارب 8 کروڑ ڈالر رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافے سے معیشت کو سہارا مل سکتا ہے، تاہم درآمدات اور خساروں میں اضافے سے حکومت کو معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سولر پینلز پر ٹیکس میں مجوزہ اضافہ نہ کرنے پر رضامند















