اہم خبریں

پی ٹی آئی تشددکی سیاست پر یقین نہیں رکھتی،شعیب شاہین

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی،انتخابات میں عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے،صاف و شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو جائینگی، ہمیں جلسے یا کنونشن کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ،کراچی میں ورکرز کنونشن کرنے جارہے ہیں، ملک بھر کے تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرینگے، صاف و شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،لیول پلینگ فیلڈ نہ ملی تو لیکشن کمیشن بھی جائیں گے اور عدالت کا دروازے بھی کھٹکھٹائیں گے ادارے اپنی ساکھ کو بحال کریں،جن افراد نے پوسٹنگ ٹرانسفر کیں ان کو شامل تفتیش کیا جائے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں دانیال ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو جلسے اور کنونشن کرنے کی اجازت ہے مگرہمیں جلسے یا کنونشن کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ,ہم نے ہم نےاس حوالے سے الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست دی ہے , پشاور ہائیکورٹ نے واضح حکم دیا ہے کہ پی ٹی آئی کوجلسہ کرنے کی اجازت دیں لیکن ایبٹ آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے سے کرسیاں بھی اٹھا لی گئیں، مردان اور سوات میں چار دیواری میں کنونشن کیا لیکن ان کو بھی اٹھا کر جیلوں میں بند کردیا گیا یہ طرز عمل آئینی ہے نہ قانونی ہے پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے جو تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی،پی ٹی آئی نے جتنے جلسے کئے وہ تاریخی تھے، ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا، پچھلے ڈیڑھ سال میں پی ٹی آئی پر تشدد کیا گیا، صرف لاہور میں پانچ سو وکیل ایک دن میں گرفتار کیا گیا، یہ سب کچھ رانا ثناءاللہ کی زیر سرپرستی ہورہا تھا، ہم نے قانونی کی حکمرانی کی بات کی ہے ،پی ٹی آئی نے جتنے بھی کنونشن کئے ،آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے، جب دوہرا معیار سامنے آئے گا تو ریاستی ادارے بے وقعت ہوجائیں گے،تشدد ہم پر ہوا جو آج تک جاری ہے، علی نواز اعوان کو اٹھایا گیا، آئین کے مطابق

ملزم کوچوبیس گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے مگر وہ کہاں ہیں کسی کو معلوم نہیں،جس جماعت کی مقبولیت نوے فیصد ہے اس کو جلسوں کی اجازت نہیں دیتے اس وقت پاکستان ایسے ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا، اگر آپ کے حکمرانوں کا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہو تو انویسٹرز کیسے اعتماد کرے گا ،آج بھی وقت ادارے سوچیں ،جس ادارے اور حکومت پر عوام کا اعتماد نہ وہ ڈیلور نہیں کرسکتے،ہم نے کبھی سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کیا 1998میں جو کچھ ہوا وہ سب کو پتا ہے پی ٹی آئی پرامن سیاسی جماعت ہے الیکشن کمیشن کی شفاف الیکشن کروانا ان کی ذمہ داری ہے الیکشن سے پہلے انتخابات کو متنازعہ نہ بنانے کیلئے کردار ادا کرے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے سب لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیے،لیول پلینگ فیلڈ نہ ملی تو لیکشن کمیشن بھی جائیں گے اور عدالت کا دروازے بھی کھٹکھٹائیں گے ادارے اپنی ساکھ کو بحال کریں،چیئرمین پی ٹی آئی بالکل بھی مایوس نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو بلایا تھا سیکریٹری داخلہ نے بیان دیا کہ الیکشن کمیشن جیل چلا جائے، الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ کو طلب کررکھا ہے، فارن فنڈنگ کیس ہی غلط ہے,اسد عمر نے اپنے ہی پروگرام میں کہا تھا کہ میرا ایک بھی ووٹ نہیں ہے اسد عمر کا اپنا فیصلہ لوگ جماعتوں میں آتے جاتے رہتے ہیں، پی ٹی آئی پورے ملک میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، پی ٹی آئی کے ورکرز کو ڈرانے والے کون ہیں،ڈرانے والوں سے درخواست ہے کہ وہ ڈرانا بند کردیں،فرح گوگی کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو عدالتوں میں جائیں ، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سب کو انتخابات میں برابری کا موقع دیں،خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی کی وفات سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے،عوام جانتے ہیں پی ٹی آئی کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہےعوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، ڈرانے والوں سے کہتا ہوں عوام کو پریشان نہ کریں عمران خان کا نام تصویر اور تقریر ہم نہیں چلا سکتےا،یک اشتہاری مجرم کو دکھایا جا سکتا ہے لیکن عمران خان کو نہیں چلا سکتے،پیمرا سے پوچھا تو بتایا گیا کہ اوپر سے حکم آیا ہے۔

متعلقہ خبریں