اہم خبریں

این ایف سی پر مبنی اینڈرائیڈ بینکنگ حملوں میں 2026 کے ابتدائی حصے میں 188 فیصد اضافہ: کیسپرسکی کی رپورٹ

اسلام آباد(اے بی این نیوز) کیسپرسکی ٹیلی میٹری کے مطابق، متاثرین کے فنڈز چرانے کے لیے این ایف سی پر مبنی اینڈرائیڈ اسمارٹ فون حملوں کی تعداد 2026 کے پہلے چار مہینوں میں 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 188 فیصد بڑھ گئی ہے۔ جنوری سے اپریل 2026 کے دوران، کیسپرسکی کے سائبر سیکیورٹی سلوشنز نے اینڈرائیڈ میلویئر کے مختلف گروپس کے 35600 حملے بلاک کیے جو این ایف سی تکنیک استعمال کرتے ہیں، جن میں سپر کارڈ ایکس، فینٹم کارڈ، این گیٹ، اور این ایف سی گیٹ ٹول کی دیگر نقصان دہ اقسام شامل ہیں، جبکہ گزشتہ سال کے پہلے چار مہینوں میں 12300 سے زائد حملے بلاک کیے گئے تھے۔

اس وقت این ایف سی پر مبنی حملوں کی دو بنیادی اسکیمیں ہیں۔ پہلی براہِ راست این ایف سی جس میں دھوکہ باز پیغام رسانی ایپس کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کرتے ہیں اور صارفین کی شناخت کی تصدیق کے بہانے انہیں ایسے نقصان دہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے پر دھوکہ دیتے ہیں جو مثال کے طور پر مالیاتی ایپ کے طور پر چھپا ہوتا ہے۔ اس کے بعد متاثرین سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا بینک کارڈ متاثرہ اسمارٹ فون کے ساتھ ٹچ کریں اور کارڈ کا پن بھی درج کریں۔ نتیجتاً کارڈ کا ڈیٹا حملہ آوروں کو دے دیا جاتا ہے۔ دوسری ریورس این ایف سی ہے جس کے ذریعے دھوکہ باز صارفین کو ایک نقصان دہ ایپ بھیجتے ہیں اور سماجی انجینئرنگ تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں قائل کرتے ہیں کہ وہ اس ایپ کو اپنے متاثرہ اسمارٹ فون پر کانٹیکٹ لیس ادائیگی کے لیے بنیادی طریقہ بنا دیں۔

” کیسپرسکی کے چیف سیکیورٹی ماہر سرگئی گولوانو ف کے مطابق پہلے حملہ آور زیادہ تر براہِ راست این ایف سی اسکیم استعمال کرتے تھے، اب ریورس این ایف سی زیادہ عام دکھائی دیتا ہے۔ ”نئی اور زیادہ پیچیدہ اسکیم کا خطرہ یہ ہے کہ اس قسم کی دھوکہ دہی کا پتہ لگانا اور اس کے خلاف لڑنا زیادہ مشکل ہے، کیونکہ متاثرین خود رقم حملہ آوروں کے کھاتوں میں منتقل کرتے ہیں اور ایسی لین دین کو جائز لین دین سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے، سائبر سیکیورٹی ماہر اور آئی ٹی سولرا کے بانی ڈاکٹر حفیظ الرحمان کہ کہنا ہے کہ“جیسے جیسے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات اور کانٹیکٹ لیس ادائیگیاں، خاص طور پر پاکستان میں، تیزی سے عام ہو رہی ہیں، صارفین کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایپلیکیشنز انسٹال کرتے وقت یا اپنے بینکنگ معلومات سے متعلق غیر متوقع درخواستوں کا جواب دیتے وقت احتیاط برتیں۔ مسلسل آگاہی، ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے، اور مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، ریگولیٹرز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے درمیان قریبی تعاون ابھرتے ہوئے موبائل خطرات کے خلاف مضبوطی پیدا کرنے اور صارفین کو مزید پیچیدہ دھوکہ دہی کی اسکیموں سے محفوظ رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔”

این ایف سی پر مبنی حملوں اور دیگر موبائل خطرات سے تحفظ کے لیے، کیسپرسکی سفارش کرتا ہے کہ غیر سرکاری ذرائع سے ایپس انسٹال کرنے سے گریز کریں۔ اے ٹی ایم پر اجنبی افراد کی ہدایات پر کبھی عمل نہ کریں — چاہے وہ خود کو کوئی بھی ظاہر کریں۔ اپنے اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر ایک جامع سیکیورٹی حل کیسپرسکی موبائل سکیورٹی استعمال کریں تاکہ براؤزرز اور میسنجرز میں فشنگ سائٹس پر جانے سے بچا جا سکے اور نقصان دہ سافٹ ویئر کی تنصیب روکی جا سکے۔

مزید پڑھیں۔شانگلہ میں مکان کی چھت گرنے سے 6 بہن بھائی جاں بحق

متعلقہ خبریں