اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل، فل کورٹ سے متعلق فیصلہ کل ہوگا،اٹارنی جنرل نے 102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کر دی، دلا ئل میں کہا زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کیمرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی ، جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا،چیف جسٹس نے ریما رکس دیئے کسی فورم پر مواد ہوگا تو پتہ چلے گا کہ آپ کا دعویٰ درست ہے یا نہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟بظاہر لگتا ہے کہ ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں،اعتراز احسن نے کہا بینچ کی تشکیل کو چیلنج کرناحیران کن ہے،ہم سپریم کورٹ کی تکریم کیلئے جیلوں میں گئے، ہمیں اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے















