اہم خبریں

بلوچستان کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

گوادر (  اے بی این نیوز     )وزیر اعظم شہباز ریف نے کہا کہ آج 15 مہینے کی بے پناہ مشکلات اور مشقت کےبعد آپ کو معلوم ہے کہ سیلاب آیاتو خادم بلوچستان کے چپے چپے پر پہنچا چاہے وہ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ ہیں چمن ہو قلعہ عبداللہ ہو یا میدانی علاقے ہوں ہر جگہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میں پہنچا اور اربوں روپے کی امداد بلوچستان کے متاثرہ خاندانوں کو 25 ہزار روپے فی کس کے حساب سے شفاف طریقے سے پہنچائی ،بلوچستان کے زیادہ تر منصوبے چین کی گرانٹ سے بننے تھے لیکن یہ تمام منصوبے ختم ہو گئے تھے میں یہ سب دیکھ کر اسلام اباد انتہائی دکھی اور رنجیدہ دل سے واپس ہوا لیکن اسی مہینے 23 جون پچھلے سال میں واپس آیا میں نے ہمت باندھی اور فیصلہ کیا کہ ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدلنی ہے کیونکہ یہ ہم پر ایک قرض ہے،اور بلوچستان کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں بلوچستان کے لیے متعدد منصوبے بنائے گئے ایران سے بجلی لانے کا منصوب بنایا گیا پانی کا مسئلہ بنایا گیا اور بلوچستان میں بہت سارے منصوبوں کے لیے عرق ریزی سے کام کیا گیا لیکن جب میں دیکھا کہ چار سال سے ان منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہوا ہر چیز بند کر کے اسے ختم کر دیا گیا تھا سی پیک کے تحت گوادر پورٹ کا منصوبہ یہاں پر انڈسٹریل زون اور دوسرے منصوبہ جات جس کی سی پیک کے تحت یہاں تعمیر ہونی تھی سب بند پڑے ہیں، وہ گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھےگزشتہ پانچ سالوں میں گوادر میں صرفایک ٹنسامان لایا گیا کیونکہ اس حکومت کو گوادر عزیز ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کا کچھ خیال کریں کہ اس علاقے میں خوشحالی آئے ، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہمارے دور میں یعنی کہ ان 15 مہینوں میں چھ لاکھ ٹن سامان گوادر کے ذریعے آیا یہ بلوچستان سے ایک محبت کا ثبوت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان ترقی کرے اور یہاں کے عوام خوشحال ہوں اگر پنجاب ترقی کرتا ہے تو یہ مطلب نہیں کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے سندھ اور کے پی ترقی کرتا ہے مطلب نہیں کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے جب تک چاروں صوبے ترقی کے بہاؤ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے اس وقت تک پاکستان کی ترقی کے زمرے میں نہیں آتے جب سارے صوبے ترقی میں برابر کا حصہ ڈالین گے تو پاکستان کی ترقی ہو گیانہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے معاملے پر اربوں روپے اس کے جھگڑے پر لگ گئے جس طریقے سے وہ ڈیل ہوئی اس کو چیلنج کیا گیا پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ ایا آپ سب جانتے ہیں کہ وکیلوں کی فیسوں کی مد اور دیگر اخراجات میں اربوں روپے جھونک دیے گئے لیکن عوام کو ایک دمڑی کا بھی فائدہ نہیں ہوا اسی طریقے سے گوادر کا جو علاقہ ہے اس میں اس میں سب سے پہلا حق گوادر کے اوربلوچستان کے عوام کا ہے اس حوالے سے آپ کا جو شکوہ تھا کہ یہاں پر بندر گاہ تو بن رہی ہے دیگر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں لیکن عوام کے لیے کیا کیا جا رہا ہے یہ آپ کا انتہائی جائز سوال تھا ظاہر ہے کہ اس کا سب سے پہلا یہ جواب ہونا چاہیے تھا کہ یہاں کے عوام کو پینے کا صاف پانی ملے گا یہاں پر لوگوں کو تعلیم ملے گیعوام کا علاج ہوگا ادویات ملیں گی ان کے لیے یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی تاکہ ان کو احساس ہو کہ اگر گوادر پورٹ بنی ہے تو یہ نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہو رہی ہے یہ تمام منصوبے جو بنائے جا رہے ہیں اس میں بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کا راز ہے بلکہ اس سے پاکستان بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام بنے گاپاکستان اپ کو معلوم ہے کہٓ ائی ایم ایف کا جھنجٹ کس طرح سمیٹا اج پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل چکا ہے ہماری سعودی عرب نے یو اے ای نے قطر نے ہمارے برادر ممالک نے بے تنہا مدد کی ہے چین نے ہمیں مدد کی ہےحالانکہ لیکن افسوس ہے کہنا پڑ رہا ہے کہ صوبے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔

متعلقہ خبریں