پشاور(اے بی این نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے صوبائی اسمبلی سے منظور کیے گئے استحقاق ترمیمی ایکٹ کو آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کیخلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے اور اسمبلی کی رپورٹنگ کو حکومتی اجازت سے مشروط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر اختیار ولی نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے قوانین متعارف کرا رہی ہے جن کا مقصد اختلافی آوازوں اور آزاد صحافت کو محدود کرنا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنے لیے الگ قانون اور عوام کے لیے الگ قانون چاہتی ہے، جبکہ حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کے لیے بھی خصوصی رعایتیں رکھی جا رہی ہیں۔
اختیار ولی نے کہا کہ نئے قانون کے تحت اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک التوا، سوالات، قرارداد یا دیگر کارروائی اس وقت تک میڈیا پر نشر یا شائع نہیں کی جا سکے گی جب تک سپیکر اسے ایوان میں پیش نہ کر دیں، پارلیمانی رپورٹنگ اور عوام کے حقِ معلومات پر قدغن لگے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ناپسند صحافیوں اور میڈیا اداروں کو اسمبلی کی کوریج سے روکنے کا اختیار بھی دیا جا رہا ہے، جو آزادیٔ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے۔
اختیار ولی نے صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر کہا کہ گومل یونیورسٹی انتظامی بحران کا شکار ہے، جبکہ یونیورسٹی آف پشاور پہلے ہی مالی مشکلات کا اعلان کر چکی ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کی 34 جامعات میں سے 18 بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں، جبکہ حکومت اپنی کارکردگی کے غیر حقیقی دعوے کر رہی ہے۔
اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات اور تشہیری سیاست میں مصروف ہے، اگر موجودہ حکمرانوں کے اختیارات کو قانون اور آئین کے دائرے میں نہ لایا گیا تو صوبے میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں غیر قانونی کان کنی، منشیات کے کاروبار اور بدعنوانی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، سونے، کوئلے اور دیگر معدنیات کی غیر قانونی کان کنی جاری ہے، جبکہ حکومت ان سرگرمیوں کی روک تھام میں ناکام رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ کبھی مثالی سمجھی جانے والی خیبرپختونخوا پولیس اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ ترقیاتی منصوبوں اور بحالی کے فنڈز میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے مختص رقوم عوام تک نہیں پہنچ سکیں۔
اختیار ولی نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی، تعلیم، صحت، آبپاشی اور زراعت جیسے بنیادی شعبوں کو فوری توجہ کی ضرورت ہے، لیکن حکومت نے اپنی ترجیحات درست نہیں رکھیں، ہیلتھ کارڈ منصوبے میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن ہو رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور کیا گیا استحقاق ترمیمی ایکٹ فوری طور پر واپس لیا جائے، اگر اس قانون کو بروقت ختم نہ کیا گیا تو بعد میں اس کے اثرات ختم کرنا مشکل ہوگا، انہوں نے وفاقی حکومت اور قومی اسمبلی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا آئینی کردار ادا کریں۔
اختیار ولی نے احتساب کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے مقدمات کی شفاف تحقیقات کریں، مختلف سکینڈلز میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے حال ہی میں استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کیا ہے، جس کے تحت اسمبلی یا قائمہ کمیٹی کی کارروائی، سوالات، قرارداد، تحریک یا تقریر کی قبل از وقت یا مسخ شدہ رپورٹنگ پر قید اور جرمانے سمیت مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کی امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری، “جبری مشقت” کی تعریف شامل کرنے کا فیصلہ















