اسلام آباد( اے بی این نیوز )آرمی ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین ملزم کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں،دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر گہری تشویش ہے،انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے اور جمہوریت کا استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کینیڈا کی ہائی کمشنر لیسلی سکینلون سے ملاقات کے دوران کیا۔ جمعرات کو یہاں وزارت قانون و انصاف میں ہونے والی ملاقات کے دوران بلوچستان میں کان کنی کے منصوبوں کے حوالے سے کینیڈا اور پاکستان کے درمیان شراکت داری اور تعاون کے طویل مدتی فوائد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کینیڈین ہائی کمشنر نے بلوچستان حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ کان کنی کے منصوبوں میں معاونت، سہولت کاری اور تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے ذریعے خطے کی ترقی کے اقدامات بھی قابل تعریف ہیں۔ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کے ٹرائلز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ آرمی ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین ملزم کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، جن میں اپنی پسند کے وکیل کی خدمات حاصل کرنا، خاندان کے افراد یا دوست تک کا رسائی کا حق اور اپیل وغیرہ دائر کرنے کی سہولت وغیرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراد کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف آئینی عدالتوں میں بھی جانے کا حق ہے۔ وزیرقانون نے کہا کہ 2014ء میں آرمی پبلک سکول کے ناگہانی حادثہ کے باعث قانون میں ترمیم کرنا اور آرمی ایکٹ کے تحت دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ وزیرقانون نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے خاص طور پر سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغرب میں رائج اسلام فوبیا کی واضح مثال ہے۔















