اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عارف علوی ساڑھے 3 سال صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کی طرح چلاتے رہے، پارلیمنٹ کو قانون سازی نہ سکھائیں، آپ صدر نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ آج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سینیٹر شیری رحمان نے صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023ء نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بل نظرثانی کیلئے واپس بھیج کر ثابت کیا کہ وہ صدر نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں، صدر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے ہر فیصلے کو تحریک انصاف کی نظر سے دیکھا ہے،صدر عارف علوی ساڑھے 3 سال صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کی طرح چلاتے رہے، وہ پارلیمنٹ کے اختیارات سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ صدرِ پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023ء آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کے لئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ بل موصول ہونے سے پہلے ہی انٹرویو میں اس پر اپنا مؤقف دے چکے ہیں کہ یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے؟
لحاضہ وہ اپنی پارٹی پالیسی کی پیروی کر رہے ہیں، صدر کے آئینی عہدے کی نہیں۔صدر کہہ رہے کہ یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے؟ساڑھے تین سال وہ صدر ہائوس کو آرڈیننس فیکٹری کی طرح چلاتے رہے، وہ پارلیمنٹ کے اختیارات سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں۔ صدر پارلیمنٹ کو قانون سازی نا سکھائیں۔ 2/2
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) April 8, 2023















