اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر توانائی اور رہنما مسلم لیگ (ن) خرم دستگیر نے کہاہے کہ قانونی حق حاصل ہونے کے بعد الیکشن التواء کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ عمران خان کی کسی بھی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے 10 ماہ امریکی سازش اور آرمی چیف سے متعلق جھوٹ بولا جس سے وہ خود پیچھے ہٹ چکے ہیں۔از خود نوٹس کیس کے حوالے سے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن نہیں روکنا چاہتے، یہ فیصلہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، چار ججز اختلافی نوٹ جاری کر چکے ہیں، ہماری ہر وقت استدعا ہے کہ چیف جسٹس فُل کورٹ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کے پاس یہ سہولت نہیں کہ وہ غلط فیصلہ کرکے کہیں ہم سے غلطی ہوگئی، البتہ جیسے ہی ہمیں قانونی حق حاصل ہوگا ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے جب کہ چیف جسٹس سمیت تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے 63 اے کا انتہائی نا مناسب فیصلہ کیا جس سے 12 کروڑ سے زائد افراد کی حکومت بدل گئی جس کے بعد کورٹ نے کہا ہم سے غلطی ہوگئی، لہٰذا ہماری استدعا ہے سپریم کورٹ میں بھی اب شفافیت کی روشنی پہنچنی چاہئے۔خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ جس دن عمران خان نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا اس وقت سے سپریم کورٹ میں دراڑ ہے لیکن کورٹ کے ریکارڑ پر سوالات ہیں جسے درست کرنے کے لئے چیف جسٹس تمام ججز سے مشاورت کریں۔















