اسلام آباد(اے بی این نیوز )وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں ردوبدل دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا ،بھارت نے اندرونی سیاسی معاملات میں فائدہ اٹھانے کے لئے یہ خط لکھا ہے ۔ عالمی بینک بھی دونوں فریقوں کی رضا مندی سے ثالثی کرے گا ۔جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کے بھارت کی جانب سے سندھ طاس کمیشن کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے پاکستان کو 25جنوری کو تشویشناک خط موصول ہوا ہے ، ماضی میں مختلف تنازعات کے باوجود ایسا مبہم خط نہیں لکھا گیا ہے ، اس معاملے پر فوری طور پر وزیراعظم کو آگاہ کیاگیا ، متعلقہ ادارے اس حوالہ سے کام کر رہے ہیں ۔ بھارت نے مہم الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ ماضی میں جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا ۔ انہوں نے کہاکہ بگلہار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے ،رکلے پن بجلی منصوبے پربھی ہم نے اعتراض اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں اگلے سال انتخابات ہیں جس کے تناظر میں بھارت جارحانہ بیان بازی کر رہا ہے ۔ سندھ طاس معاہدے میں ردوبدل دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے اندرونی سیاسی معاملات میں فائدہ اٹھانے کے لئے یہ خط لکھا ہے ۔ عالمی بینک بھی دونوں فریقوں کی رضا مندی سے ثالثی کرے گا ۔ ویاناکمیشن کے تحت الزامات اور اس سے متعلق ثبوت پوچھے جاتے ہیں اس بھارتی خط پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ واٹر کمشنر اس حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں ۔بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے اقدامات کے جواب میں جارحانہ رویہ اپنائے جس سے مودی کے قد میں اضافہ ہو۔بھارت اس معاہدے میں یکطرفہ اقدامات نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پانی کی کمی بڑا مسئلہ ہے ،مون سون اور سیلاب کے پانی کو زخیرہ کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ملک بھر میں مختلف درمیانے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر کام جاری ہے ، ہمارا فی کس پانی کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔ہمیں پانی کے ضیاع روکنے کی ضرورت ہے ۔















