اسلام آباد( اے بی این نیوز ) وفاقی وزیربرائے تخفیف غروبت وسماجی تحفظ اورچیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شازیہ مری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی ادارے اپنے دائرہ کار سے نکلتے ہیں تو ملک میں عدم استحکام آتا ہے۔ ہر ادارے کو جمہور ی روایات کی پاسداری کرنی چاہئے۔ اعلی عدلیہ میں تقسیم اور پھوٹ پاکستان کیلئے انتہائی خطرناک ہے جسے کوئی بھی پاکستانی پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کی ضرورت ہے لیکن پاکستان میں جب بھی جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تو پارلیمان کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو پاکستان کے آئین کی خالق ہے۔ شازیہ مری نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 4 اپریل پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جس دن نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کے عظیم ترین لیڈر کو عدالتی فیصلے کے ذریعے شہید کیا گیا۔ آج پاکستان اور آئین سے کھلواڑ پر وہ اس لئے پریشان ہے کہ جمہوریت کیلئے ہم نے قربانیاں دی ہیں۔ قبرستان ہماری قربانیوں کی داستان سناتے ہیں لیکن آج دوبارہ پارلیمان سے اختیار چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شازیہ مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت پر صرف اسٹیبلشمنٹ نے حملہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ عدلیہ نے بھی اْن کے اس ناجائزاور غیر جمہوری عمل کی تصدیق کی سند فراہم کی ہے۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ایک وزیراعظم کو پھانسی دینے میں کوئی آنر نہیں ہے لیکن ہم پھر بھی مائی لارڈ اور آنریبل جج کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ ہماری تربیت ایسی نہیں کہ اداروں کی بے توقیری کریں۔ گزارش ہے کہ لوگ آئینہ دیکھیں اور تارریخ سے سبق سیکھیں۔ شازیہ مر ی نے مزید کہا کہ جب وزیراعظم کے کنڈکٹ پر بات ہوسکتی ہے تو ججوں کے طرز عمل پر کیوں نہیں۔ حکومت کرنے کا مینڈیٹ عوام نے سیاستدانوں کو دیا ہے اور ہم عوام کو جواب دہ ہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ ایک شخص عدالت کے احاطہ میں جلسہ سجا لیتا ہے اور وہاں پر اس کی پارٹی کے ترانے بجائے جاتے ہیں اس سے عدالت کی غیر جانبداری پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ عمران خان کو گملے میں سجا کر سیاسی لیڈر بنایا گیا ہے اور اس شخص کو حکومت میں لانے کیلئے پاکستان کی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی۔ شازیہ مری نے کہا کہ یہ ایسا شخص ہے جس نے پاکستان پر ایٹم بم گرانے کی بات کی لیکن اس متکبر اور کرپٹ شخص کو پروٹیکشن دی جا رہی ہے جس کے کرتوتوں کی وجہ سے ملک آج بحرانوں کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن سے کوئی نہیں بھاگ رہا لیکن لیول پلینگ فیلڈ فراہم کی جائے۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہئے۔ ایک ڈکٹیٹر کی خواہش پر عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا لیکن آج بھی شہید بھٹو کی روح ہم میں موجود ہے اور ہم سپریم کورٹ سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا انصاف چاہتے ہیں۔جو اختیارات جنرل مشرف نے پارلیمنٹ سے لے لئے تھے۔صدر آصف علی زرداری نے وہ اختیارات اس پارلیمنٹ کو واپس سونپے۔















