اسلام آباد(رضوان عباسی )ملک میں گندم کی مقامی پیداوار سالانہ قومی ضروریات سے زیادہ ہونے کے باوجود حکومت نے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی کے باعث گندم درآمد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ہنگامی اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اے بی این نیوز کو حاصل ہونے والی اجلاس کی اندرونی تفصیلات کے مطابق گندم کی مقامی پیداوار کا تخمینہ 2 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار ٹن جبکہ سالانہ قومی ضرورت 2 کروڑ 91 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اس کے باوجود صوبوں نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں نمایاں کمی رپورٹ کی ہے، جس کی وجہ سرکاری سطح پر ہدف سے کم خریداری اور نجی شعبے کی شمولیت بتائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں 5 لاکھ سے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جبکہ درآمدی مقدار کا حتمی تعین صوبوں کی طلب اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کرنے کی سفارش کی گئی۔
سمری میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ پاسکو کے پاس موجود 10 لاکھ ٹن گندم صوبوں کو 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فراہم کی جائے، جس پر لاگت کا تخمینہ 141 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبوں کی باقی ضروریات درآمدی گندم سے پوری کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ درآمدات پر تقریباً 34 کروڑ ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم درآمد کے معاملے پر مزید سفارشات مرتب کرنے کے لیے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
مزید پڑھیں:الیکشن شیڈول کے بعد تبادلوں پر الیکشن کمیشن کا سخت نوٹس















