اسلام آباد (رضوان عباسی ) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے سیکیورٹی سروے 2026 جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ملک میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات بدستور کاروباری اعتماد، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
سروے کے مطابق کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور ملک کے مغربی علاقوں میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کاروباری برادری کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔ اگرچہ ملک کے بعض حصوں میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اس کے مثبت اثرات ابھی تک نمایاں نہیں ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق 71 فیصد رکن اداروں نے سیکیورٹی کو کاروبار کو درپیش تین بڑے خدشات میں شامل کیا، جبکہ امن و امان کی صورتحال کو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا۔
سروے میں بتایا گیا کہ کراچی میں کاروباری اداروں کا سیکیورٹی پر اعتماد گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید کم ہوا ہے۔ 42 فیصد جواب دہندگان نے شہر کی سیکیورٹی صورتحال کو بگڑتی ہوئی قرار دیا، جبکہ 2025 کے سروے میں یہ شرح 41 فیصد تھی۔
بلوچستان میں بھی سیکیورٹی خدشات نمایاں رہے۔ کوئٹہ میں 81 فیصد جبکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 86 فیصد جواب دہندگان نے سیکیورٹی صورتحال میں خرابی کی نشاندہی کی۔
رپورٹ کے مطابق اسٹریٹ کرائم بدستور کاروباری اداروں کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی مسئلہ ہے۔ کراچی میں 50 فیصد جواب دہندگان نے اسٹریٹ کرائم میں اضافے کی نشاندہی کی، جبکہ کوئٹہ میں یہ شرح گزشتہ سال کے 24 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہو گئی۔
سروے میں 32 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال ان کے کاروباری آپریشنز کو متاثر کر رہی ہے۔ ملازمین کی روزانہ آمدورفت کے دوران ذاتی تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھے ہیں۔ کراچی میں یہ شرح 41 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد جبکہ کوئٹہ میں 79 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق کاروباری اداروں کی رائے میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ کراچی پولیس کی مثبت درجہ بندی 38 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد اور سندھ پولیس کی مثبت درجہ بندی 26 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی۔ اس کے برعکس سندھ رینجرز کی مثبت درجہ بندی 34 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کی مثبت درجہ بندی 34 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی۔
او آئی سی سی آئی کے سروے کے مطابق اسٹریٹ کرائم، غیر قانونی ادائیگیاں، غیر ملکی عملے کی سیکیورٹی، احتجاجی سرگرمیاں اور خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:طلبہ کیلئے اہم خبر،امتحانی نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان















