امریکی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں ( Iran, USA )کی جانب کسی بھی جہاز ( ShippingCrisis )کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سمندری ناکہ بندی پر سختی سے عمل جاری ہے۔ امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق بحرالکاہل اور بحرہند میں ایرانی جہازوں ( StraitOfHormuz )کے
خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جبکہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو آج پچپنواں دن قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ہر سطح پر نفاذ کر رہا ہے اور سمندری راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایران
نے پانچ تجارتی جہازوں پر حملہ کیا، جس کے بعد عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے نام پر مزید اقدامات کیے گئے۔
جنرل ڈین کین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث چونتیس بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا، جبکہ متعدد جہازوں نے خود واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق کئی جہاز مالکان خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے مزید کہا کہ ایرانی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ایک بڑے ایرانی بحری جہاز ’’ٹفنی‘‘ کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب خطے
میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور تجارتی راستوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تیل سستا، اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان















