ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی( IbrahimAzizi ) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ( trump) کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے معاملات پر بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی حکمت عملی طے کرنا صرف سپریم لیڈر اور ایرانی عوام کا حق ہے۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ بیرونی دباؤ، دھمکیوں یا بیانات سے ایران اپنے قومی فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی پالیسیوں پر کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای بارے اہم انکشاف،امریکی اخبار کا دعویٰ سامنے آگیا
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی کانگریس کا نصف حصہ خود ٹرمپ کے مواخذے کا حامی ہے، جس سے امریکا کے اندرونی سیاسی اختلافات واضح ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو دوسرے ممالک پر تنقید کے بجائے اپنے داخلی بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے۔
ایرانی رہنما نے ٹرمپ کو جارح مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اقدامات پر پچھتائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی، پابندیوں اور عسکری دباؤ کی پالیسیوں نے امریکا کو مطلوبہ نتائج نہیں دیے۔















