بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ( Trump ) کی جانب سے بھارت کو مبینہ طور پر “ہیل ہول” قرار دینے سے متعلق رپورٹس پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ “ہم نے کچھ رپورٹس دیکھی ہیں، اسی پر بات ختم کرتے ہیں”، اور مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔اسی دوران امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے صورتحال کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات مضبوط ہیں اور ٹرمپ نے بھارتی قیادت کی تعریف بھی کی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے یہ بھی تصدیق کی کہ حالیہ واقعات میں آبنائے ہرمز میں متاثر ہونے والے بحری جہازوں میں بھارتی شہری بھی موجود تھے، تاہم تمام بھارتی عملہ محفوظ ہے اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ترجمان کے مطابق دو متاثرہ بحری جہازوں پر بھارتی شہری سوار تھے جو محفوظ ہیں۔ بھارت نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہاز رانی بلا رکاوٹ ہونی چاہیے۔
ٹرمپ کے بیانات،ایرانی پارلیمانی کمیٹی کا شدید رد عمل سامنے آگیا،جا نئے کیا
بھارت نے بتایا کہ گزشتہ ہفتوں میں 10 بھارتی جہاز آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر نکل چکے ہیں جبکہ 14 جہاز اب بھی خلیج فارس میں موجود ہیں۔ نئی دہلی مسلسل بحری صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کیں۔ بعد ازاں مختصر جنگ بندی پر اتفاق ہوا تاہم فریقین کی جانب سے خلاف ورزی کے الزامات بھی سامنے آئے۔آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔















