اہم خبریں

کسی سیکٹر کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ہے پالیسی آپ نے دینی ہے آئی ایم ایف نے نہیں،ہارون

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )فرحان بخاری نے کہا کہ ماضی میں دیکھیں تو ہمارے ملک کا جی ڈی پی بھی 8 فیصد تھا۔ توانائی بحران بڑھنے کی وجہ سے انڈسٹریز جو ہیں وہ بند ہو گئیں۔
کپاس کی پیداوار پیچھے سال سے کم رہی۔ ہارون نے کہا کہ معیشت کا ڈھانچہ 240 ملین لوگوں کے لیے کافی نہیں ہے۔

ہمیں ڈھانچہ بدلنے کے لیے پالیسی شفٹ کی ضرورت ہے۔
صنعت میں مزدور تو ختم ہی ہو گیا سارا کام آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہو رہا ہے۔ کسی سیکٹر کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ہے پالیسی آپ نے دینی ہے آئی ایم ایف نے نہیں۔
فرحان نے کہا کہ عجیب سی کھچڑی بنی ہوئی ہے جو لوگ کام نہیں جانتے وہ اس میں گھس رہے ہیں۔ بلکہ دوسرا یہ جو کلائمیٹ چینج ہے اس کا کوئی وزیر نہیں ہے پوری دنیا کی اس جانب توجہ ہے۔
ایجوکیشن اور ہیلتھ کے شعبے توجہ طلب ہیں۔ آصف نے کہا کہ انڈسٹری اکانومی اہم مسئلہ یہ ہے۔
مزید پڑھیں :نیشنل فرانزک سائنس ایجنسی کی بحالی کیلئے فنڈز جاری

متعلقہ خبریں